ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 24

جس وقت انسانی روح کو مصائب کا مقابلہ ہوتا ہے ان سے فرسودہ کار اور تجربہ کار ہو کر روح چمک اٹھتی ہے۔جیسے لوہا یا شیشہ اگرچہ چمک کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے۔لیکن صیقلوں کے بعد ہی مجلّٰی ہوتا ہے حتی کہ اس میں منہ دیکھنے والے کا نظر آجاتا ہے۔مجاہدات بھی صیقل کا ہی کام کرتے ہیں۔دل کا صیقل یہاں تک ہونا چاہیے کہ اس میں سے بھی منہ نظر آجاوے۔منہ کا نظر آنا کیا ہے؟ تَخَلَّقُوْابِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کا مصداق ہونا۔سالک کا دل آئینہ ہے جس کو مصائب و شدائد اس قدر صیقل کردیتے ہیں کہ اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں منعکس ہوجاتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب بہت مجاہدات اور تزکیوں کے بعد اس کے اندر کسی قسم کی کدورت یا کثافت نہ رہے تب یہ درجہ نصیب ہوتا ہے۔ہر ایک مومن کو ایک حد تک ایسی صفائی کی ضرورت ہے۔کوئی مومن بلا آئینہ ہونے کے نجات نہ پائے گا۔سلوک والا خود یہ صیقل کرتا ہے۔اپنے کام سے مصائب اٹھاتا ہے لیکن جذب والا مصائب میں ڈالا جاتا ہے۔خدا خود اس کا مصقل ہوتا ہے اور طرح طرح کے مصائب وشدائد سے صیقل کرکے اس کو آئینہ کا درجہ عطا کر دیتا ہے۔دراصل سالک و مجذوب دونوں کا ایک ہی نتیجہ ہے۔سو متقی کے دو حصے ہیں۔سلوک و جذب۔ایمان بالغیب تقویٰ جیسے کہ میں بیان کر آیا ہوں کسی قدر تکلف کو چاہتا ہے۔اسی لئے تو فرمایا کہ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرۃ:۴،۳) اس میں ایک تکلّف ہے مشاہدہ کے مقابل ایمان بالغیب لانا ایک قسم کے تکلّف کو چاہتا ہے سو متقی کے لئے ایک حد تک تکلّف ہے کیونکہ جب وہ صالح کا درجہ حاصل کرتا ہے تو پھر غیب اس کے لئے غیب نہیں رہتا کیونکہ صالح کے اندر سے ایک نہر نکلتی ہے جو اس میں سے نکل کر خدا تک پہنچتی ہے وہ خدا اور اس کی محبت کو اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسرآءیل :۷۳) اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک انسان پوری روشنی اسی جہان میں نہ حاصل کر لے وہ کبھی خدا کا منہ نہ دیکھے گا۔سو متقی کا کام یہی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے سرمے طیار کرتا رہے جس سے اس کا روحانی نزول الماء دور ہو جاوے۔اب اس سے ظاہر ہے کہ متقی شروع میں اندھا ہوتا ہے۔مختلف کوششوں اور تزکیوں