ملفوظات (جلد 1) — Page 25
سے وہ نور حاصل کرتا ہے۔سو جب سوجاکھا ہوگیا اور صالح بن گیا پھر ایمان بالغیب نہ رہا اور تکلف بھی ختم ہوگیا۔جیسے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بِرَأْیِ الْعَیْن اسی عالم میں بہشت دوزخ وغیرہ سب کچھ مشاہدہ کرایا گیا۔جو متقی کو ایک ایمان بالغیب کے رنگ میں ماننا پڑتا ہے وہ تمام آپ کے مشاہدہ میں آگیا۔سو اس آیت میں اشارہ ہے کہ متقی اگرچہ اندھا ہے اور تکلّف کی تکلیف میں ہے لیکن صالح ایک دارالامان میں آگیا ہے اور اس کا نفس نفسِ مطمئنہ ہو گیا ہے۔متقی اپنے اندر ایمان بالغیب کی کیفیت رکھتا ہے۔وہ اندھا دھند طریق سے چلتا ہے۔اس کو کچھ خبر نہیں۔ہر ایک بات پر اس کا ایمان بالغیب ہے یہی اس کا صدق ہے اور اس صدق کے مقابل خدا کا وعدہ ہے کہ وہ فلاح پائے گا اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (البقرۃ:۶) اقامت ِصلوٰۃ اس کے بعد متقی کی شان میں آیا ہے وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ (البقرۃ:۴) یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتا ہے۔یہاں لفظ کھڑی کرنے کا آیا ہے یہ بھی اس تکلف کی طرف اشارہ کرتا ہے جو متقی کا خاصہ ہے یعنی جب وہ نماز شروع کرتا ہے تو طرح طرح کے وساوس کا اسے مقابلہ ہے جن کے باعث اس کی نماز گویا بار بار گرتی پڑتی ہے جس کو اس نے کھڑا کرنا ہے۔جب اس نے اللہ اکبر کہا تو ایک ہجوم وساوس ہے جو اس کے حضور قلب میں تفرق ڈال رہا ہے وہ ان سے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔پریشان ہوتا ہے۔ہر چند حضور و ذوق کے لئے لڑتا مرتا ہے لیکن نماز جو گری پڑتی ہے بڑی جان کنی سے اسے کھڑا کرنے کے فکر میں ہے۔بار بار اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہہ کر نماز کے قائم کرنے کے لئے دعا مانگتا ہے اور ایسے الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی ہدایت چاہتا ہے جس سے اس کی نماز کھڑی ہو جاوے۔ان وساوس کے مقابل میں متقی ایک بچہ کی طرح ہے جو خدا کے آگے گڑگڑاتا ہے۔روتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ (الاعراف :۱۷۷) ہو رہا ہوں سو یہی وہ جنگ ہے جو متقی کو نماز میں نفس کے ساتھ کرنا ہے اور اسی پر ثواب مترتّب ہوگا۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں وساوس کو فی الفور دور کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ کی منشا کچھ اور ہے۔کیا خدا نہیں جانتا؟ حضرت شیخ عبدالقادر گیلانی (رحمۃ اللہ علیہ) کا قول