ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 23

کے بعد بھی میں بلندی حاصل نہ کرتا؟ یہ ایک مثال ہے کہ اہل اللہ مصائب، شدائد کے بعد درجات پاتے ہیں۔لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ فلاں شخص فلاں کے پاس جا کر بلا مجاہدہ و تزکیہ ایک دم میں صدیقین میں داخل ہو گیا۔قرآن کو دیکھو کہ خدا کس طرح تم پر راضی ہو۔جب تک نبیوں کی طرح تم پر مصائب و زلازل نہ آویں جنہوں نے بعض وقت تنگ آکر یہ بھی کہہ دیا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (البقرۃ:۲۱۵) اللہ کے بندے ہمیشہ بلاؤں میں ڈالے گئے پھر خدا نے ان کو قبول کیا۔ترقیات کی دو راہیں صوفیوں نے ترقیات کی دو راہیں لکھی ہیں۔ایک سلوک دوسرا جذب۔سلوک سلوک وہ ہے جو لوگ آپ عقلمندی سے سوچ کر اللہ و رسولؐ کا راہ اختیار کرتے ہیں جیسے فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰلِ عمران:۳۲) یعنی اگر تم اللہ کے پیارے بننے چاہتے ہو تو رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیروی کرو۔وہ ہادی کامل وہی رسول ہیں جنہوں نے وہ مصائب اٹھائے کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتی۔ایک دن بھی آرام نہ پایا۔اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور سے وہی ہوں گے جو اپنے متبوع کے ہر قول و فعل کی پیروی پوری جدوجہد سے کریں۔متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا۔سہل انگار اور سخت گزار کو اللہ پسند نہیں کرتا بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے غضب میں آوے گا۔یہاں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کا حکم دیا تو سالک کا کام یہ ہوگا کہ اول رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے۔اسی کا نام سلوک ہے۔اس راہ میں بہت مصائب و شدائد ہوتے ہیں ان سب کو اٹھانے کے بعد ہی انسان سالک ہوتا ہے۔جذب اہل جذب کا درجہ سالکوں سے بڑھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں سلوک پر ہی نہیں رکھتا بلکہ خود ان کو مصائب میں ڈالتا اور جاذبہ ازلی سے اپنی طرف کھینچتا ہے۔کل انبیاء مجذوب ہی تھے۔