ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 272

آسمان پر اس کی مخالفت کا ارادہ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے منشا کے موافق لوگوں کے دل سخت ہوجاتے ہیں مگر جونہی وہ توبہ و استغفار کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گر کر پناہ لیتا ہے تو اندر ہی اندر ایک رحم پیدا ہو جاتا ہے اور کسی کو پتا بھی نہیں لگتا کہ اس کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں بو دیا جاتا ہے۔غرض توبہ و استغفار کا ایسا مجرب نسخہ ہے کہ خطا نہیں جاتا۔۵۸؎ ۲۱ ؍اپریل۱۸۹۹ء (قبل مغرب) مسیح موعود کا کارنامہ کسرِ صلیب یہ کتاب ۵۹؎ جو لکھی گئی ہے، جب شائع ہوگی تو ان لوگوں کو بھی پتا لگ جاوے گا جو بار بار اعتراض کرتے ہیں کہ آکر کیا بنایا؟ میں حیران ہو جاتا ہوں جب اس قسم کے اعتراض سنتا ہوں۔کیا پھونک مار کر کچھ بنا دیا جاتا؟ بھلا یہ تو بتلائیں کہ نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس دعوت کی ان کے اعتقاد کے موافق کیا بنایا؟ مگر یہ لوگ دیکھیں گے اور خدا تعالیٰ نمایاں طور پر دکھادے گا کہ کیا بنایا ہے۔کاش یہ لوگ موجودہ حالت وقت پر غور کرتے۔صدی میں سے سولہ (۱۶) سال گزر گئے۔ظلمت انتہا تک پہنچ گئی اور کوئی نہ آیا جو اصلاح کرتا۔یہ لوگ ذرا بھی انصاف نہیں کرتے۔مجھ پر اعتراض کرتے کرتے خدا پر اعتراض جا کرتے ہیں۔کیونکہ میں نے تو آکر کچھ بنایا نہیں اور خدا نے بنانے والا بھیجا نہیں بلکہ باوجود اس کے کہ اور ضرورتیں اگر چھوڑ بھی دی جاویں تو ان ناعاقبت اندیش معترضوں کے موافق ایک گمراہ کرنے والا بھی آگیا اور پھر بھی وہ اصل مہدی نہ آیا اور نہ خدا نے اسے بھیجا۔چودھویں صدی کو مبارک سمجھتے تھے پر کیا خاک مبارک نکلی جب کہ ایک دجّال آگیا!!! صدیق حسن اور عبدالحیٔ جو دعویٰ کرنے والے تھے وہ صدی کے سر پر ہی فوت ہو گئے ورنہ شاید وہی ان لوگوں کا سہارا ہوتے لیکن خدا نے اپنے فضل سے دکھا دیا کہ یہ کام ان کا نہ تھا بلکہ کسی اور کا۔