ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 271

کے فرمودہ پر عمل کرنے کو طیار ہو جاؤ۔بہتری اسی میں ہے ورنہ اختیار ہے۔ہمارا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔عربی اور انگریزی سیکھنے کی تلقین میں یہ بھی اپنی جماعت کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ وہ عربی سیکھیں کیونکہ عربی کی تعلیم کے بدوں قرآن کریم کا مزا نہیں آتا پس ترجمہ پڑھنے کے لئے جو ضروری ہے مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا عربی زبان کو سیکھنے کی کوشش کریں۔آج کل تو آسان آسان طریق عربی پڑھنے کے نکل آئے ہیں۔قرآن شریف کا پڑھنا جبکہ ہر مسلمان کا فرض ہے پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ عربی زبان سیکھنے کی کوشش نہ کی جاوے اور ساری عمر انگریزی اور دوسری زبانوں کے حاصل کرنے میں کھو دی جاوے۔مگر یہ بات بھی یاد رکھو کہ چونکہ استحکام گورنمنٹ نے ایک قومی گورنمنٹ کی صورت اختیار کرلی ہے اس لئے قومی گورنمنٹ کی زبان بھی ایک قومیت کا رنگ رکھتی ہے۔پس ضروری ہوا کہ اپنے مطالب و اغراض کو حکام کے پورے طور پر ذہن نشین کرنے کے لئے انگریزی پڑھو تاکہ تم گورنمنٹ کو فائدہ اور مدد پہنچا سکو۔فونو گراف پھر زبانوں کے تذکرے پر فرمایا۔فونو گراف کیا ہے؟ گویا مطبع ناطق ہے۔تکلیف کی دو حیثیتیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی جب تک آسمان پر فتویٰ نہ ہو اگرچہ تکالیف تو پیغمبروں کو بھی پہنچتی ہیں مگر وہ از راہِ محبت کے ہوتی ہیں اور ان میں ایک قسم کی تعلیم مخفی ہوتی ہے جو ان مشکلات میں انبیاء علیہم السلام کا پاک گروہ اپنے طرز عمل اور چال چلن سے دیتا ہے اور بعض لوگوں پر دکھ کی مار ہوتی ہے اور وہ ان کی اپنی ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (الزلزال:۹) پس آدمی کو لازم ہے کہ توبہ و استغفار میں لگا رہے اور دیکھتا رہے کہ ایسا نہ ہو بد اعمالیاں حد سے گزر جاویں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاویں۔توبہ و استغفار جب خدا تعالیٰ کسی پر فضل کے ساتھ نگاہ کرتا ہے تو عام طور پر دلوں میں اس کی محبت کا القا کر دیتا ہے لیکن جس وقت انسان کا شر حد سے گزر جاتا ہے اس وقت