ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 273

مجدّد جو آیا کرتا ہے وہ ضرورتِ وقت کے لحاظ سے آیا کرتا ہے نہ استنجے اور وضو کے مسائل بتلانے۔خدا جو مدبّر اور حکیم خدا ہے، کیا وہ نہیں دیکھتا کہ دنیا پر طبیعیات اور فلسفہ کی زہریلی ہوا چلی ہے جس نے ہزار ہا انسانوں کو ہلاک کر دیا ہے۔صلیب پرست عیسائیوں نے کس کس رنگ میں لکھوکھا روحوں کو خدا سے دور پھینک دیا ہے۔تو پھر کیا اس وقت ایسے مجدّد کی ضرورت نہ تھی جو کسر صلیب کرے اور دلائل و بیّنات سے دکھاوے کہ صلیبی مذہب میں حقانیّت کا نور نہیں اور ایک لکڑی پر ایمان لا کر انسان نجات کا وارث نہیں ٹھہر سکتا۔آئے دن پچاس (۵۰) پچاس (۵۰) ہزار اور ایک ایک لاکھ اشتہار چھاپ چھاپ کر یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں اور ٹڈی دل کی طرح عورتیں، بچے، جوان، بوڑھے لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح پر اسلام پر حملہ کریں۔اس وقت اسلام پر وہ حملہ ہوا ہے جس کی انتہا نہیں۔ادھر خدا کا یہ وعدہ کہ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر:۱۰) اور ادھر اُن ناعاقبت اندیش معترضین کی یہ دانائی کہ اسلام میں حفاظت دین کے لئے معرفت کا نُور لے کر کوئی نہیں آیا، بلکہ دجّال آیا ہے۔افسوس! صد افسوس!! آہ! صد آہ!!! یہی تو وقت تھا کہ خدا اپنی نصرت اور تائید کا روشن ہاتھ دکھاتا۔مگر میں کہتا ہوں کہ اس نے دکھایا اور وہ اپنی چمکار دکھائے گا اور مخالفوں کو شرمندہ کر کے بتلا دے گا کہ آنے والے نے آکر کیا بنایا۔۶۰؎ ۲۱؍اپریل ۱۸۹۹ء ستّاری خدائے تعالیٰ کی ستّاری ایسی ہے کہ وہ انسان کے گناہ اور خطاؤں کو دیکھتا ہے لیکن اپنی اس صفت کے باعث اس کی غلط کاریوں کو اس وقت تک جب تک کہ وہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جاویں ڈھانپتا ہے، لیکن انسان کسی دوسرے کی غلطی دیکھتا بھی نہیں اور شور مچاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کم حوصلہ ہے اور خدائے تعالیٰ کی ذات حلیم و کریم ہے۔ظالم انسان اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھتا ہے اور کبھی کبھی خدائے تعالیٰ کے حلم پر پوری اطلاع نہ رکھنے کے باعث بے باک ہو جاتا ہے اس وقت ذوانتقام کی صفت کام کرتی ہے اور پھر اسے پکڑ لیتی ہے۔ہندو لوگ کہا کرتے