ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 236

کبھی گردن میں نکلتا ہے یہاں تک کہ سرسام ہوجاتا ہے غالباً یہ سب کچھ چوبیس گھنٹہ میں ہو جاتا ہے۔گورنمنٹ کو پتا بمشکل ملتا ہے۔اور بیس گھنٹہ تک تو لوگ کچھ تو معمولی بخار سمجھ کر اور پھر آثار طاعون دیکھ کر اسے چھپاتے ہیں اور جب اثر ہو چکتا ہے تو کہیں جا کر گورنمنٹ کو پتا ملتا ہے۔اب ایک دو گھنٹہ وہاں رہ کر اگر وہ مَرے نہ تو اور کیا ہو۔پس یہ نادانی اور حماقت ہے کہ قصور اپنا ہے اور اسے تھوپا جاتا ہے گورنمنٹ کے سر۔اگر گورنمنٹ غلطی کرے تو ہمارا حق ہے کہ ہم اس کو بیان کریں بلکہ گورنمنٹ کی نیک نیتی اور خیر طلبی تو یہاں تک ہے کہ اس نے خود مشورے لئے مگر ہمارا ملک واقعی نیم وحشی اور جاہل ہے۔غصہ اور بدظنی کے سوا ہاتھ میں کچھ نہیں۔اپنی غلط کاریوں کا الزام گورنمنٹ کو دیتے ہیں اور کچھ نہیں سوچتے۔کاش یہ صدہا انجمنیں جو ملک میں پھیل رہی ہیں اس کام کی طرف توجہ کریں اور جہلاء کے دلوں سے یہ بدظنیاں گنوائیں تو کس قدر بھلائی بنی نوع کی ہو۔تم غفلت کے لحافوں میں پڑے سو رہے ہو جن بے آرامیوں اور تکالیف میں تمہارے ہم جنس مبتلا ہیں تمہیں ان کی خبر نہیں۔گورنمنٹ جس قدر روپیہ ان مصائب سے نجات پانے کے لئے اپنی پیاری رعایا کی خاطر صرف کر رہی ہے اگر چندہ کرکے وہ صرف کرنا پڑتا اور یہ حکم ہوتا کہ گاؤں گاؤں کے لوگ چندہ کریں تو کوئی ایک پیسہ بھی دینے پر راضی نہ ہوتا۔میں نے بھی ایک دوا تیار کرنی چاہی ہے اور میں اس کے تیار کرنے میں لگا ہوا ہوں۔خدا شیخ رحمت اللہ صاحب کو جزائے خیر دے جنہوں نے خدا تعالیٰ ہی کے لئے دو سو روپیہ اس کار خیر میں دیا ہے۔میں نے اس مرض کے اسباب کو خوب زیر نظر رکھ لیا ہے۔بات یہ ہے کہ اس مرض کے کئی حصے ہوتے ہیں اس لئے طبیب کو مناسب اور لازم ہے کہ وہ ہر حصہ اور سبب کی رعایت ملحوظ رکھے۔ردّی غذائیں اور سمّی ہوائیں اس مرض کو بہت زیادہ پھیلاتی اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔زمین کے نشیبی حصہ سے ایسی سمّی ہوائیں تنفس کے ذریعہ یا غذا کے ذریعہ انسان کے خون میں سمّیّت اور عفونت پیدا کرتی ہیں۔جدید سائنسی تحقیقات سے اسلام کی تائید آج کل کی تحقیقات میں طاعون کی جڑ کیڑے یا اجرام صغیرہ ثابت ہوتے