ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 237

ہیں۔میں بھی اس تحقیقات کو پسند کرتا ہوں کیونکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت اور اسلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔حدیث شریف میں جہاں یہ ذکر آیا ہے وہاں نَغَفْ اس کا نام رکھا گیا ہے اور نَغَفْ اس کیڑے کو کہتے ہیں جو بکری اور اونٹ کے ناک سے نکلتا ہے اور اسے طاعون قرار دیا گیا ہے۔آج کل کی تحقیقات پر بڑا فخر کیا جاتا ہے مگر جس نے مقدس اسلام کے بانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاک کلام کو پڑھا ہے اسے کس قدر لطف اور مزا آتا ہے جب وہ تیرہ سو برس پیشتر اس کے پاک ہونٹوں سے ان باتوں کو نکلتے ہوئے دیکھتا ہے۔قرآن کریم بھی اس کو کیڑا ہی بتلاتا ہے۔اب اے نئی تحقیقات پر اِترانے والو! خدا کے لئے ذرا انصاف کو کام میں لاؤ اور بتلاؤ کہ کیا وہ مذہب انسانی افترا ہو سکتا ہے جس میں ایسے حقائق پہلے سے موجود ہوں جو تیرہ سو سال کی محنتوں اور تحقیقاتوں اور جان کنیوں کا نتیجہ ہوں۔یہ قرآن کریم اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے معقولی معجزات ہیں۔دیکھو قلب دل کو کہتے ہیں اور قلب گردش دینے والے کو بھی کہتے ہیں۔دل پر مدار دوران خون کا ہے۔آج کل کی تحقیقات نے تو ایک عرصہ دراز کی محنت اور دماغ سوزی کے بعد دورانِ خون کا مسئلہ دریافت کیا مگر اسلام نے پہلے ہی سے دل کا نام قلب رکھ کر اسی صداقت کو مرکوز اور محفوظ کر دیا۔طاعون کے اسباب اب میں پھر اصل مضمون کی طرف عود کرتا ہوں۔دوسرا سبب پلیدی، تیسرا سبب سـمّیّت، چوتھا سبب تپ، پانچواں پھوڑے۔اب اس میں ایک اختلاف ہے کہ آیا اصل پھوڑے ہیں یا تپ۔ڈاکٹر تپ کو اصل بتلاتے ہیں اور یونانی پھوڑہ کو اصل ٹھیراتے ہیں۔میرے نزدیک یونانیوں کی رائے صحیح ہے۔کیونکہ تورات میں بھی پھوڑوں کا ہی ذکر ہے۔(اللہ اللہ کس قدر ایمانی طاقت بڑھی ہوئی ہے۔تورات میں اصل پھوڑے قرار دیئے ہیں جو خدا کا کلام ہے۔ایڈیٹر) ہاں تپ لازمی ہے۔بعض اوقات تپ قائم مقام ہوتا ہے اور کبھی نہیں بھی بلکہ بیمار تپ سے پہلے ہی رخصت ہوجاتا ہے۔طبابت کے رو سے ثابت ہوا ہے کہ تپ سے پہلے بھی رخصت ہو جاتا ہے۔غرض اصل تپ نہیں بلکہ پھوڑا ہے۔پھوڑا اگر چیرا جاتا ہے اور مواد نکل جاتا ہے