ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 231

اندرونی پاکیزگی پاس بھی نہ پھٹکے۔پس یاد رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔اس لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کو غسل کرو۔ہر نماز میں وضو کرو۔جماعت کھڑی کرو تو خوشبو لگالو۔عیدین میں اور جمعہ میں خوشبو لگانے کا جو حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے۔اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہے۔پس غسل کرنے اور صاف کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے سے سـمّیّت اور عفونت سے روک ہوگی۔جیسا اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مَرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔کافور کے خواص مسلمان کو مَرتے وقت کافور کا استعمال کرنا سنّت ہے۔یہ اس لئے کہ کافور ایسی چیز ہے جو وبائی کیڑوں کو مارتی اور سـمّیّت کو دور کرتی ہے۔انسان کے لئے ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔بہت سی عفونتی بیماریوں کو روکتی ہے اس لئے قرآن میں حکم ہے کہ مومنوں کو کافوری شربت پلایا جاوے گا۔اور آج کل بھی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کافور جیسا ہیضہ کے لئے مفید ہے ویسا ہی طاعون کے لئے مفید ہے۔میں اپنی جماعت کو بتلاتا ہوں کہ یہ بہت مفید چیز ہے۔اور میرا اعتقاد ہے کیونکہ قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ یہ جلن کو روکتا ہے اور اس کو سکینت اور تفریح دیتا ہے۔یہ ہم کو اس طرف رغبت دلاتا ہے کہ کافور کا استعمال کیا کریں۔آج کل ایک بات اور ثابت ہوئی ہے کہ کافور کے ساتھ جدوار استعمال کریں۔پس جدوار کو لے کر سرکہ میں ملا کر گولیاں بنانی چاہئیں اور دو دو رتی کی گولیاں بنا کر تازہ لسی کے ساتھ استعمال کرو۔عورتوں اور بچوں کو یہ گولیاں روزمرہ اگر استعمال کرائی جاویں تو بہت مفید ہیں۔ہم بھی ایک دوا تیار کر رہے ہیں جو خدا تعالیٰ چاہے گا بہت فائدہ مند ہوگی۔دراصل یہ کمبخت مرض تو ایسا ہے کہ کسی علاج پر بھروسہ کرنا تو غلطی ہے جب تک اللہ تعالیٰ ہی کا فضل نہ ہو مگر عام اسباب تندرستی اور قانون صحت میں سے حفظ ما تقدم بھی ایک عمدہ چیز ہے اور فائدہ مند ثابت ہوا ہے پس مناسب ہے کہ سـمّیّت اور عفونت پیدا کرنے والی چیزوں سے پرہیز کیا جاوے۔اور بعض تیز غذاؤں سے جو دوران خون کو تیز کرتی ہیں جیسے بہت گوشت اور بہت میٹھا یا حد سے زیادہ دھوپ میں پھرنا یا سخت اور شدید محنت کرنا ان سے پرہیز کرنا مناسب ہے۔