ملفوظات (جلد 1) — Page 230
طاعون عذاب ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا نام رُجْز رکھا ہے۔رُجْز عذاب کو بھی کہتے ہیں۔لغت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اونٹ کی بُنِ ران میں یہ مرض ہوتا ہے اور اس میں ایک کیڑا پڑ جاتا ہے جسے نَغَفْ کہتے ہیں۔اس سے ایک لطیف نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ چونکہ اونٹ کی وضع میں ایک قسم کی سرکشی پائی جاتی ہے۔تو اس سے یہ پایا گیا کہ جب انسانوں میں وہ سرکشی کے دن پائے جاویں تو یہ عذاب الیم ان پر نازل ہوتا ہے۔اور رُجْز کے معنے لغت میں دوام کے بھی آئے ہیں۔اور یہ مرض بھی دیرپا ہوتا ہے اور گھر سے سب کو رخصت کر کے نکلتا ہے۔اس میں یہ بھی دکھایا ہے کہ یہ بلا گھروں کی صفائی کر نے والی ہے بچوں کو یتیم بناتی اور بے شمار بیکس عورتوں کو بیوہ کر دیتی ہے۔غیر صحت مندانہ ماحول بھی طاعون کا باعث ہے اور رُجْز کے معنے میں غور کرنے سے اس کا باعث بھی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ مرض پلیدی اور ناپاکی سے پیدا ہوتا ہے۔جہاں اچھی صفائی نہیں ہوتی، مکان کی دیواریں بدنما اور قبروں کا نمونہ ہیں، نہ روشنی ہے نہ ہوا آسکتی ہے، وہاں عفونت کا زہریلا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس سے یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔قرآن کریم میں جو آیا ہے وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدّثر:۶) ہر ایک قسم کی پلیدی سے پرہیز کرو۔ہجر دور چلے جانے کو کہتے ہیں۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لئے ظاہری پاکیزگی اور صفائی بھی ضروری ہے۔کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری پر اور ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔ظاہری پاکیزگی کا اثر باطن پر دو حالتیں ہیں۔جو باطنی حالت تقویٰ اور طہارت پر قائم ہونا چاہتے ہیں وہ ظاہری پاکیزگی بھی چاہتے ہیں۔ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (البقرۃ:۲۲۳) یعنی جو باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں مَیں ان کو دوست رکھتا ہوں۔ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کی ممد اور معاون ہے۔اگر انسان اس کو چھوڑ دے اور پاخانہ پھر کر بھی طہارت نہ کرے تو