ملفوظات (جلد 1) — Page 228
دھمکی دے رہا ہے لیکن میں نہیں دیکھتا کہ لوگوں کو ایک کھا جانے والا غم پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ توبہ اور استغفار میں مصروف ہوں۔میں نہیں دیکھتا کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوں یا نمازوں کی پابندی کا التزام کرتے ہوں۔بلکہ ظلم اور بداخلاقی کے طریقے استعمال میں آرہے ہیں۔طاعون کا قاعدہ ہے کہ وہ سخت پرواز کرکے پرندے کی طرح دوسرے مقام میں پہنچتی ہے۔اس کی رفتار میں ایسا نظام نہیں ہے کہ منزل بہ منزل جاوے بلکہ دو چار سو کوس کا فاصلہ طے کرکے یکلخت جا پہنچتی ہے۔اب بمبئی اور جالندھر کی ہی بابت خیال کرو کہ ان میں کس قدر فاصلہ ہے۔اب بتلاؤ کہ انسان اس کے جالندھر میں پہنچنے کی بابت کیا نظام رفتار کا قائم کر سکتا ہے۔الغرض اس کی رفتار کی نسبت کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔آج عافیت سے گزرتی ہے کل کیا ہو۔یہ خطرناک بات ہے۔اس کے دورے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔بعض اوقات ساٹھ ساٹھ سال تک اس کا دورہ ہوتا ہے اور یہ ایک مسلّم اور مقبول بات ہے۔ہیضہ کی طرح نہیں کہ ساون بھادوں کے مہینے میں آگیا اور بیس پچیس دن رہ کر رخصت ہوا۔طاعون کو حکیموں نے نیزے سے مارنے والی لکھا ہے۔طاعون مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا نشانہ خطا نہیں جاتا۔اور کثرتِ اموات بہت ہوتی ہے۔تورات میں بھی اس کا ذکر ہے۔موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں پر پڑی تھی۔تورات میں خدا نے جہاں پھوڑوں کی مار سے ڈرایا ہے اس سے طاعون ہی مراد ہے۔قرآن کریم میں بھی یہودیوں کو نافرمانی پر طاعون سے ہلاک کرنے کا ذکر ہے۔طاعون آنے کی وجہ ان مقامات تورات اور قرآن کریم پر غور کرنے سے پتا لگتا ہے کہ یہ انسان کی نافرمانی اور بدکاری سے علاقہ رکھتی ہے کیونکہ سنت اللہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ معصیت کے وقت اسی بیماری سے ہلاک ہوئے۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک قہری نشان ہے۔جیسا میں نے پہلے بیان کیا کہ یہ تیسرا قیامت کا نشان ہے اس سے قیامتِ صغریٰ پیدا ہوتی ہے۔شاید وہ لوگ جن کو خبر نہیں اس کو افسانہ سمجھیں کہ یورپ اور بلاد شام اور عراق عجم میں تو گویا اس کا ڈیرا جم گیا تھا۔ابھی یہاں نیا مسافر ہے اس لئے لوگوں کو اس کے اخلاق اور عادات کی خبر