ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 229

نہیں۔ایک طرف تو وہ خدا سے بے خوف اور بے خبر ہیں اور استغفار نہیں کرتے۔دوسری طرف گورنمنٹ کی تجاویز پر بھی تو عمل درآمد نہیں کرتے اور ان کو بدظنی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور مخالفت کا شور مچاتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں مداہنہ کے طور پر تعریف کرنا ہمارا کام نہیں۔یہ اصول کہ جس گاؤں میں بیماری ہو وہاں کے لوگ الگ کئے جاویں اور آمد رفت کے راستہ بند کئے جاتے ہیں اور مریضوں کو ایک کھلے میدان میں رکھا جاتا ہے اور بسا اوقات سارے گاؤں کو الگ کر دیا جاتا ہے گویا اس سرزمین سے سب کو نکال دیا جاتا ہے ہماری کتابوں سے معلوم ہوتا ہے اور تورات سے بھی یہی پتا لگتا ہے کہ اس کے مواد زمین سے ہی شروع ہوتے ہیں۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مرض چوہوں سے پھیلتا ہے۔یہ بھی منجملہ دیگر اسباب کے ایک سبب ہے۔دراصل جو زمین بدکاریوں اور جفاکاریوں سے لعنتی زمین ہو جاتی ہے اس میں یہ سمیّت پیدا ہو جاتی ہے اور بڑے بڑے خوفناک طریق پر وہ مبتلائے عذاب ہو جاتی ہے۔مگر کوئی ہم کو یہ تو بتلائے کہ گورنمنٹ نے کیا برائی کی جو یہ کہا کہ وبازدہ مکان کو چھوڑ دو۔جو کام ہماری بھلائی کے لئے ہو اس میں برائی کا خیال پیدا کرنا دانشمند انسان کا کام نہیں۔میں نے جیسا کہا ہے کہ اگر گورنمنٹ یہ حکم دیدے کہ کوئی نہ نکلے تو لوگ اس حکم کو اس سے بھی زیادہ ناگوار سمجھیں کیونکہ جب گاؤں میں طاعون پھیلے اور لوگ مَرنے لگیں تو کوئی بھی برداشت نہ کرے گا کہ اس گھر میں رہے۔دیکھو! جس گھر یا مکان سے کبھی سانپ نکلے لوگ دہشت کھاتے ہیں۔خواہ وہ سانپ مار بھی دیا جاوے۔پھر بھی اندھیرے میں اس مکان کے اندر داخل نہیں ہوتے۔یہ انسان کی ایک طبعی عادت ہے۔حیرت ہے کہ انسان اندیشہ کی جگہ سے واقف ہو اور پھر امن اور چین کے ساتھ اس میں رہے۔کیا ہو سکتا ہے کہ جس گھر سے مُردہ پر مُردہ نکلنا شروع ہو جاوے اور اہل خانہ اس میں بیٹھے رہیں؟ فی الفور خود ہی چھوڑیں گے اور اسے منحوس بتلا کر کنارہ کر جائیں گے۔اگر یہ لوگ اسی حالت میں چھوڑے جاتے اور گورنمنٹ کسی قسم کا دخل نہ دیتی پھر بھی یہ لوگ وہی کرتے جو آج گورنمنٹ کر رہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو طاعون کی خبر نہیں وہ اس کو نزلہ زکام کی طرح ایک عام مرض سمجھتے ہیں۔