ملفوظات (جلد 1) — Page 227
طاعون ایک قہری نشان اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار امتحان رکھے ہیں۔ایک خوف۔دوم کبھی نقصانِ مال اور تیسرے نقصانِ جان۔چہارم تلفِ ثمرات۔مگر یہ ایک دہشت ناک مقام اور خوفناک جگہ ہے کہ اس طاعون میں یہ ہر چہار امتحان مجموعی طور پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔جن کو یہ خبر ہے کہ اس وقت کیا ہو رہا ہے اور کیا بھگتنا پڑتا ہے۔وارداتِ طاعون سے حقیقت میں یہ چاروں امتحان یکے بعد دیگرے پیش آجاتے ہیں۔یہی نہیں کہ آدمی مَر جاتا ہے گورنمنٹ انگلشیہ نے ایک ضرورت اور اشد ضرورت کی وجہ سے اور پھر ایسی مصلحت اور ضرورت سے جیسی مہربان ماں کو اپنے بچوں کی غور و پرداخت اور نگہداشت میں کبھی کبھی پیش آجاتی ہے یہ قانون پاس کیا ہے کہ جس گھر میں طاعون کی واردات ہو اس گھر کے رہنے والے باہر نکال دیئے جاویں اور عند الضرورت ہمسائے اور محلّہ دار اور اشد ضرورت کی صورت میں گاؤں کا گاؤں ہی خالی کر دیا جاوے۔بیمار الگ رکھے جاویں اور تندرست الگ رکھے جاویں۔اور وہ مقام جہاں ایسے لوگ رکھے جاویں ہلکی ہوا میں ایسی جگہ پر ہو جس کے نشیب میں پانی نہ ہو اور خوب آمد رفت ہوسکے۔اور اس کے متّصل ہی قبرستان بھی ہوتا کہ مرنے والوں کو جلدی دفن کرسکیں تا ایسا نہ ہو کہ ان کے تعفن سے ہوا اور زہریلی ہو۔یہ ایک ایسا شدید ابتلا ہے جس کی وجہ سے بمبئی، پونا اور بعض دیگر مقامات وغیرہ میں لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔غرض گورنمنٹ نے ان تدابیر کے اختیار کرنے سے جو نیکی سوچی ہے اور درحقیقت اس میں نیکی ہی ہے اس کو بدی قرار دیا جاتا ہے۔یہ افسوس اور سخت افسوس کی بات ہے کہ جس سے نیکی کی جاوے وہ اس نیکی کو بدی سمجھتا ہے۔پھر اس پر حیرت اور تعجب تو یہ ہے کہ گورنمنٹ نے تدابیر انسداد کچھ اپنے گھر سے وضع نہیں کرلئے ہیں۔یونانی طبیبوں کا اس پر اتفاق ہوا ہے کہ طاعون جس گھر میں ہو وہ اس گھر بلکہ شہر بلکہ ملک تک کو صاف کر دیتی ہے۔اس کی بہت سی نظیریں بھی اس گروہ نے دی ہیں کہ طاعون جیسی خوفناک مرض نے بس نہیں کیا جب تک کہ آبادی سے جنگل نہیں بنا دیا اور اجاڑ کرکے نہیں دکھا دیا اکثر لوگوں کو خبر نہیں ہے۔مجھے افسوس ہے کہ باوجودیکہ یہ خطرناک مرض بہت بُری طرح پھیل رہا ہے اور ملک کے ایک بڑے حصہ کو تباہ کر دینے کی