ملفوظات (جلد 1) — Page 11
جیسے کہ فرمایا وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: ۴،۳) جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مَخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کردیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں، یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔مثلاً ایک دوکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ دروغ گوئی کے سوا اس کا کام ہی نہیں چل سکتا اس لئے وہ دروغ گوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لیے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے لیکن یہ امر ہرگز سچ نہیں۔خدا تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہوجاتا اور اسے ایسے موقع سے بچا لیتا ہے جو خلاف حق پر مجبور کرنے والے ہوں۔یاد رکھو جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا تو خدا نے اسے چھوڑ دیا۔جب رحمان نے چھوڑ دیا تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔یہ نہ سمجھوکہ اللہ تعالیٰ کمزورہے۔وہ بڑی طاقت والی ذات ہے۔جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کروگے وہ ضرور تمہاری مددکرے گا وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ (الطلاق :۴) لیکن جو لوگ ان آیات کے پہلے مخاطب تھے وہ اہل دین تھے۔ان کی ساری فکریں محض دینی امور کے لیے تھیں اور ان کے دنیوی امور حوالہ بخدا تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔غرض برکات تقویٰ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو ان مصائب سے مَخلصی بخشتا ہے جو دینی امور کے حارج ہوں۔متقی کے لئے روحانی رزق ایسا ہی اللہ تعالیٰ متقی کو خاص طور پر رزق دیتا ہے۔یہاں میں معارف کے رزق کا ذکر کروں گا۔آنحضرتؐ کو باوجود اُمّی ہونے کے تمام جہان کا مقابلہ کرنا تھا جس میں اہل کتاب، فلاسفر، اعلیٰ درجہ کے علمی مذاق والے لوگ اور عالم فاضل شامل تھے لیکن آپ کو روحانی رزق اس قدر ملا کہ آپؐ سب پر غالب آئے اور ان سب کی غلطیاں نکالیں۔یہ روحانی رزق تھا کہ جس کی نظیر نہیں۔متقی کی شان میں دوسری جگہ یہ بھی آیا ہے اِنْ اَوْلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (الانفال:۳۵) اللہ کے ولی وہ ہیں جو متقی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے دوست۔پس یہ کیسی