ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 10

ہے۔پھر ایسی جماعت کی سزا دہی کے لئے وہ کفار کو ہی تجویز کرتا ہے۔جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ کئی دفعہ مسلمان کافروں سے تہ تیغ کئے گئے۔جیسے چنگیز خاں اور ہلاکو خاں نے مسلمانوں کو تباہ کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے حمایت اور نصرت کا وعدہ کیا ہے لیکن پھر بھی مسلمان مغلوب ہوئے۔اس قسم کے واقعات بسا اوقات پیش آئے۔اس کا باعث یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ قوم لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو پکارتی ہے لیکن اس کا دل کسی اور طرف ہے اور اپنے افعال سے وہ بالکل رُوبہ دنیا ہے تو پھر اس کا قہر اپنا رنگ دکھاتا ہے۔قول و فعل میں مطابقت اللہ کا خوف اسی میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔پھر جب دیکھے کہ اس کا قول وفعل برابر نہیں تو سمجھ لے کہ وہ مورد غضب الٰہی ہوگا۔جو دل ناپاک ہے خواہ قول کتنا ہی پاک ہو وہ دل خدا کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا بلکہ خدا کا غضب مشتعل ہوگا۔پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں اسی لئے کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھل دار درخت ہو جاوے۔پس ہر ایک اپنے اندر غور کرے کہ اس کا اندرونہ کیسا ہے اور اس کی باطنی حالت کیسی ہے؟ اگر ہماری جماعت بھی خدانخواستہ ایسی ہے کہ اس کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ ایک جماعت جو دل سے خالی ہے محض زبانی دعوے کرتی ہے۔وہ غنی ہے وہ پروا نہیں کرتا۔بدر کی فتح کی پیشگوئی ہو چکی تھی، ہر طرح فتح کی امید تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رو رو کر دعا مانگتے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا کہ جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات غنی ہے یعنی ممکن ہے کہ وعدۂ الٰہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔برکات تقویٰ پس ہمیشہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اس کا معیار قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کرکے اس کے کاموں کا خود متکفّل ہوجاتا ہے۔