ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 141

کیا ہوسکتا ہے کہ مُستقل اور ابدی لذت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں مگر تلاشِ حق میں مستقل اور پویہ قدم درکار ہیں۔قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوں سے دی ہے۔اس میں بھی سِرّ اور بھید ہے۔ایمان لانے والوں کو مریم اور آسیہ سے مثال دی ہے یعنی خدا تعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو پیدا کرتا ہے۔بہرحال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طرح عورت اور مرد کا باہم تعلق ہوتا ہے اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے۔اگر عورت اور مرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فریفتہ ہو تو وہ جوڑا ایک مبارک اور مفید ہوتا ہے ورنہ نظام خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذّات حاصل نہیں ہوتا ہے۔مرد اور جگہ خراب ہوکر صدہا قسم کی بیماریاں لے آتے ہیں۔آتشک سے مجذوم ہوکر دنیا میں ہی محروم ہوجاتے ہیں۔اور اگر اولاد ہو بھی جاوے تو کئی پُشت تک یہ سلسلہ برابر چلا جاتا ہے اور ادھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی ہے اور عزّت وآبُرو کو ڈبو کر بھی سچی راحت حاصل نہیں کرسکتے۔غرض اس جوڑے سے الگ ہو کر کس قدر بدنتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح پر انسان روحانی جوڑے سے الگ ہوکر مجذوم اور مخذول ہوجاتا ہے۔دنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج و مصائب کا نشانہ بنتا ہے۔جیسا کہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقا کے لئے حظّ ہے۔اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقا کے لئے حظّ موجود ہے۔صوفی کہتے ہیں کہ جس کو یہ حظّ نصیب ہو جاوے وہ دنیا اور مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اس کو معلوم ہوجاوے تو اس میں ہی فنا ہوجاوے لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور اُن کی نمازیں صرف ٹکریں ہیں اور اوپرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست و برخاست کے طور پر ہوتی ہیں۔مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے جب مَیں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لئے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں معتبر اور قابلِ عزت سمجھے جاویں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل ہوجاتی ہے یعنی وہ نمازی اور پرہیزگار کہلاتے ہیں۔پھر اُن کو کیوں یہ کھاجانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور