ملفوظات (جلد 1) — Page 142
بے دلی کی نماز سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے ان کو عزت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی؟ نماز میں لذّت نہ آنے کی وجہ اور اُس کا علاج غرض میں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔پھر شہروں اور گاؤں میں تو اور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے۔سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مُستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں اُن کو اس لذّت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزے کو چکھا۔اَور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذّن اذان دے دیتا ہے۔پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے گویا اُن کے دل دُکھتے ہیں۔یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں۔بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دُکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر کبھی جاکر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہیے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذّتیں عطا کی ہیں۔نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھادے۔کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔دیکھو! اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اُسے خوب یاد رہتا ہے اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت بہ اعتبار اس کے مجسّم ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یاد نہیں رہتا۔اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کرکے خوابِ راحت چھوڑ کر اور کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے پھر نماز میں لذّت کیونکر حاصل ہو؟ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا تو وہ پَے درپے پیالے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اُس کو ایک قسم کا