ملفوظات (جلد 1) — Page 140
کی بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ہے۔اگر محض توالد وتناسل ہی مقصود بالذّات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا۔عورت اور مرد کی برہنگی کی حالت میں ان کی غیرت قبول نہ کرتی کہ وہ ایک دُوسرے کے ساتھ تعلق پیدا کریں مگر اس میں اُن کے لئے ایک حظّ ہے اور ایک لذّت ہے۔یہ حظّ اور لذّت اس درجہ تک پہنچی ہے کہ بعض کوتاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پروا اور خیال نہیں کرتے بلکہ ان کو صرف حظّ ہی سے کام اور غرض ہے۔خدا تعالیٰ کی علّتِ غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سبب کے لئے ایک تعلق عورت اور مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظّ رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لئے مقصود بالذّات ہوگیا ہے۔اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔اس میں بھی ایک لذّت اور سُرور ہے اور یہ لذت اور سُرور دنیا کی تمام لذّتوں اور تمام حظوظِ نفس سے بالاتر اور بالاتر ہے۔جیسے عورت اور مرد کے باہمی تعلقات میں ایک لذّت ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہوسکتا ہے جو مرد اپنے قویٰ صحیحہ رکھتا ہے۔ایک نامرد اور مخنث وہ حظّ نہیں پاسکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذّت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو عبادتِ الٰہی سے لذّت نہیں پاسکتا۔عبودیّت اور ربوبیّت کے رشتہ کی حقیقت عورت اور مرد کا جوڑا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔مَیں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذّت مجسّم جو جوڑ ہے وہ انسان اور خدا تعالیٰ کا ہے۔مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی کھانے کا مزا نہ آئے تو طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامدیں کرتا، روپیہ خرچ کرتا، دُکھ اُٹھاتا ہے کہ وہ مزا حاصل ہو۔وہ نامراد جو اپنی بیوی سے لذّت حاصل نہیں کرسکتا بعض اوقات گھبرا گھبرا کر خودکشی کے ارادے تک پہنچ جاتا اور اکثر موتیں اس قسم کی ہوجاتی ہیں۔مگر آہ! وہ مریضِ دل، وہ نامراد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذّت نہیں آتی؟ اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہوجاتی؟ دنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے کیا کچھ کرتا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا۔کس قدر بے نصیب ہے! کیسا ہی محروم ہے! عارضی اور فانی لذّتوں کے علاج تلاش کرتا ہے اور پالیتا ہے۔