ملفوظات (جلد 1) — Page 138
ہے۔وہ اس دعا اور صدقات کا اثر اور نتیجہ کسی دوسرے پیرائے میں اُس کو پہنچا دیتا ہے۔بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی تقدیر میں ایک وقت تک توقّف اور تاخیر ڈال دیتا ہے۔قضائے معلّق اور مُبرم کا ماخذ اور پتا قرآن کریم سے ملتا ہے۔یہ الفاظ گو نہیں۔مثلاً قرآن کریم میں فرمایا ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) ترجمہ۔’’دعا مانگو مَیں قبول کروں گا۔‘‘ اب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا قبول ہوسکتی ہے اور دعا سے عذاب ٹل جاتا ہے اور ہزار ہا کیا کُل کام دعا سے نکلتے ہیں۔یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کُل چیزوں پر قادرانہ تصرف ہے۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس کے پوشیدہ تصرفات کی لوگوں کو خواہ خبر ہو یا نہ ہو مگر صدہا تجربہ کاروں کے وسیع تجربے اور ہزار ہا دردمندوں کی دعا کے صریح نتیجے بتلا رہے ہیں کہ اس کا ایک پوشیدہ اور مخفی تصرف ہے۔وہ جو چاہتا ہے محو کرتا ہے اور جو چاہتا ہے اثبات کرتا ہے۔ہمارے لئے یہ امر ضروری نہیں کہ ہم اس کی تہہ تک پہنچنے اور اس کی کُنہ اور کیفیت معلوم کرنے کی کوشش کریں جبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایک شے ہونے والی ہے۔اس لئے ہم کو جھگڑے اور مباحثے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کے قضاوقدر کو مشروط بھی کر رکھا ہے جو توبہ، خشوع، خضوع سے ٹل سکتے ہیں۔جب کسی قسم کی تکلیف اور مصیبت انسان کو پہنچتی ہے تو وہ فطرتاً اور طبعاً اعمالِ حسنہ کی طرف رُجوع کرتا ہے۔اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسوس کرتا ہے جو اسے بیدار کرتا اور نیکیوں کی طرف کھینچے لئے جاتا ہے اور گناہ سے ہٹاتا ہے۔جس طرح پر ہم ادویات کے اثر کو تجربے کے ذریعہ سے پالیتے ہیں اسی طرح پر ایک مضطربُ الحال انسان جب خدا تعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تذلّل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اور رَبِّیْ رَبِّیْ کہہ کر اس کو پکارتا اور دعائیں مانگتا ہے تو وہ رؤیائے صالحہ یا الہام صحیحہ کے ذریعہ سے ایک بشارت اور تسلّی پالیتا ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق سے دعا انتہا کو پہنچے گی تو وہ قبول ہوجاتی ہے۔دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑہا صُلحاء اور اَتقیاء اور اولیاء اللہ کے ذاتی تجربے اس امر پر گواہ ہیں۔