ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 139

عبادات میں لذّت اور سُرور رکھا گیا ہے نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے؟ اس کے غناءِ ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دُعا، تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آج کل عبادت اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہورہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیے وہ مزا نہیں آتا۔دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذّت اور ایک خاص حظّ اللہ تعالیٰ نے رکھا نہ ہو۔جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزہ نہیں اُٹھا سکتا اور وہ اُسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو عبادت الٰہی میں حظّ اور لذّت نہیں پاتے اُن کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہیے کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اُس کے لئے لذّت اور سُرور نہ ہو۔لذّت اور سُرور تو ہے مگر اُس سے حظّ اٹھانے والا بھی تو ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذّاریات :۵۷) اب انسان جب کہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے ضروری ہے کہ عبادت میں لذّت اور سُرور بھی درجۂ غایت کا رکھا ہو۔اس بات کو ہم اپنے روز مرّہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا کئے ہیں تو کیا اُن سے وہ ایک لذّت اور حظّ نہیں پاتا ہے؟ کیا اس ذائقہ، مزے اور احساس کے لئے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات۔حیوانات ہوں یا انسان حظّ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش کُن اور سُریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذّت نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے۔اب اس میں زبردستی نہیں