ملفوظات (جلد 1) — Page 137
قبولیت اور کامیابیوں پر نازاں نہ ہو بلکہ خدا کے فضل اور عنایت کی قدر کرو۔قاعدہ ہے کہ کامیابی پر ہمت اور حوصلہ میں ایک نئی زندگی آجاتی ہے اس زندگی سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی کرنی چاہیے کیونکہ سب سے اعلیٰ درجہ کی بات جو کام آنے والی ہے وہ یہی معرفت الٰہی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم پر غور کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا ہے۔بہت تنگ دستی بھی انسان کو مصیبت میں ڈال دیتی ہے۔اس لیے حدیث میں آیا ہے اَلْفَقْرُسَوَادُ الْوَجْہِ۔ایسے لوگ خود میں نے دیکھے ہیں جو اپنی تنگ دستیوں کی وجہ سے دہریہ ہوگئے ہیں مگر مومن کسی تنگی پر بھی خدا سے بدگمان نہیں ہوتا اور اس کو اپنی غلطیوں کا نتیجہ قرار دے کر اس سے رحم اور فضل کی درخواست کرتا ہے اور جب وہ زمانہ گزر جاتا ہے اور اس کی دعائیں باروَر ہوتی ہیں تو وہ اس عاجزی کے زمانہ کو بھولتا نہیں بلکہ اسے یاد رکھتا ہے۔غرض اگر اس پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کام پڑنا ہے تو تقویٰ کا طریق اختیار کرو۔مبارک وہ ہے جو کامیابی اور خوشی کے وقت تقویٰ اختیار کرلے اور بد قسمت وہ ہے جو ٹھوکر کھا کر اس کی طرف نہ جھکے۔۱۴؎ تقریر حضرت اقدس علیہ السلام ۱۸؍جنوری ۱۸۹۸ء تقدیر تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک کا نام مُعَلّق ہے اور دوسری کو مُبْرَم کہتے ہیں۔اگر کوئی تقدیر معلق ہو تو دعا اور صدقات اُس کو ٹلادیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیر کو بدل دیتا ہے۔اور مبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ہاں وہ عبث اور فضول بھی نہیں رہتے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف