ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 136

نہیں جانے دیا۔اس شکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ سے محبت بڑھے گی اور ایمان میں ترقی ہوگی اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی کامیابیاں ملیں گی کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو البتہ میں نعمتوں کو زیادہ کروں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو یادرکھو عذاب سخت میں گرفتار ہوگے۔مومن اور کافر کی کامیابی میں فرق اس اصول کو ہمیشہ مدنظر رکھو۔مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کسی کامیابی پر جو اسے دی جاتی ہے شرمندہ ہوتا ہے اور خدا کی حمد کرتا ہے کہ اس نے اپنا فضل کیا اور اس طرح پر وہ قدم آگے رکھتا ہے اور ہر ابتلا میں ثابت قدم رہ کر انعام پاتا ہے۔بظاہر ایک ہندو اور مومن کی کامیابی ایک رنگ میں مشابہ ہوتی ہے لیکن یاد رکھو کہ کافر کی کامیابی ضلالت کی راہ ہے اور مومن کی کامیابی سے اس کے لئے نعمتوں کا دروازہ کھلتا ہے۔کافر کی کامیابی اس لئے ضلالت کی طرف لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی طرف رجوع نہیں کرتا بلکہ اپنی محنت، دانش اور قابلیت کو خدا بنا لیتا ہے مگر مومن خدا کی طرف رجوع کرکے خدا سے ایک نیا تعارف پیدا کرتا ہے اور اس طرح پر ہر ایک کامیابی کے بعد اس کا خدا سے ایک نیا معاملہ شروع ہو جاتا ہے اور اس میں تبدیلی ہونے لگتی ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا (النّحل:۱۲۹) خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں تقویٰ کا لفظ بہت مرتبہ آیا ہے۔اس کے معنے پہلے لفظ سے کیے جاتے ہیں۔یہاں مَعَ کا لفظ آیا ہے یعنی جو خدا کو مقدم سمجھتا ہے خدا اس کو مقدم رکھتا ہے اور دنیا میں ہر قسم کی ذلتوں سے بچالیتا ہے۔میرا ایمان یہی ہے کہ اگر انسان دنیا میں ہر قسم کی ذلت اور سختی سے بچنا چاہے تو اس کے لیے ایک ہی راہ ہے کہ متّقی بن جائے۔پھر اس کو کسی چیز کی کمی نہیں۔پس مومن کی کامیابیاں اس کو آگے لے جاتی ہیں اور وہ وہیں ہی نہیں ٹھہر جاتا۔مبارک وہ ہے جو کامیابی اور خوشی کے وقت تقویٰ سے کام لے اکثر لوگوں کے حالات کتابوں میں لکھے ہیں کہ اوائل میں دنیا سے تعلق رکھتے تھے اور شدید تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے کوئی دعا کی اور وہ دعا قبول ہو گئی۔اس کے بعد ان کی حالت ہی بدل گئی، اس لیے اپنی دعاؤں کی