ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 135

دنیا کی کامیابیاں ابتلا سے خالی نہیں ہوتی ہیں۔قرآن شریف میں آیا ہے خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ (الملک:۳) یعنی موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ ہم تمہیں آزمائیں۔کامیابی اور ناکامی بھی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے۔کامیابی ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے۔جب کسی کو اپنے کامیاب ہونے کی خبر پہنچتی ہے تو اس میں جان پڑ جاتی ہے اور گویا نئی زندگی ملتی ہے اور اگر ناکامی کی خبر آجائے تو زندہ ہی مر جاتا ہے اور بسا اوقات بہت سے کمزور دل آدمی ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عام زندگی اور موت تو ایک آسان امر ہے لیکن جہنمی زندگی اور موت دشوار ترین چیز ہے۔سعید آدمی ناکامی کے بعد کامیاب ہو کر اور بھی سعید ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایمان بڑھ جاتا ہے۔اس کو ایک مزہ آتا ہے جب وہ غور کرتا ہے کہ میرا خدا کیسا ہے اور دنیا کی کامیابی خدا شناسی کا ایک بہانا ہو جاتا ہے۔ایسے آدمیوں کے لیے یہ دنیوی کامیابیاں حقیقی کامیابی کا (جس کو اسلام کی اصطلاح میں فَلَاح کہتے ہیں) ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ سچی خوشحالی، سچی راحت دنیا اور دنیا کی چیزوں میں ہرگز نہیں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام شعبے دیکھ کر بھی انسان سچا اور دائمی سرور حاصل نہیں کر سکتا۔تم دیکھتے ہوکہ دولتمند زیادہ مال و دولت رکھنے والے ہر وقت خنداں رہتے ہیں مگر ان کی حالت جَرْب یعنی خارش کے مریض کی سی ہوتی ہے جس کو کھجلانے سے راحت ملتی ہے لیکن اس خارش کا آخری نتیجہ کیا ہوتا ہے؟یہی کہ خون نکل آتا ہے۔پس ان دنیوی اور عارضی کامیابیوں پر اس قدر خوش مت ہو کہ حقیقی کامیابی سے دور چلے جاؤ بلکہ ان کامیابیوں کو خدا شناسی کا ایک ذریعہ قرار دو۔اپنی ہمت اور کوشش پر نازمت کرو اور مت سمجھو کہ یہ کامیابی ہماری کسی قابلیت اور محنت کا نتیجہ ہے بلکہ یہ سوچو کہ اس رحیم خدا نے جو کبھی کسی کی سچی محنت کو ضائع نہیں کرتا ہے ہماری محنت کو بارور کیا ورنہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ صدہا طالب علم آئے دن امتحانوں میں فیل ہوتے ہیں۔کیا وہ سب کے سب محنت نہ کرنے والے اور بالکل غبی اور بلید ہی ہوتے ہیں؟ نہیں بلکہ بعض ایسے ذکی اور ہوشیار ہوتے ہیں کہ پاس ہونے والوں میں سے اکثر کے مقابلہ میں ہوشیار ہوتے ہیں۔اس لیے واجب اور ضروری ہے کہ ہر کامیابی پر مومن خدا تعالیٰ کے حضور سجدات شکر بجا لائے کہ اس نے محنت کو اکارت تو