ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 108

اخلاق ، عقائد کی نقل کرنی چاہیے جو مُنْعَمْ عَلَیْـھِمْ ہیں۔جہاں تک انسان سے ممکن ہو عقائد ، اخلاق اور اعمال سے کام لے۔اس امر کو تم مشاہدہ میں دیکھ سکتے ہو کہ جب تک انسان اپنے قویٰ سے کام نہیں لیتا وہ ترقی نہیں کر سکتا یا ان کو اصل غرض اور مقصود سے ہٹا کر کوئی اور کام ان سے لیتا ہے جس کے لئے وہ خَلق نہیں ہوئے تو بھی وہ ترقی کی راہ میں نہ بڑھیں گے۔اگر آنکھ کو چالیس روز بند رکھا جاوے گا تو اس کے دیکھنے کی طاقت سلب ہو جاوے گی۔پس یہ ضروری امر ہے کہ پہلے قویٰ کو ان کے فطرتی کاموں پر لگاؤ تو اور بھی ملے گا۔ہمارا اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ جہاں تک عملی طاقتوں سے کام لیا جاوے اللہ تعالیٰ اس پر برکت نازل کرتا ہے۔مطلب یہی ہے کہ اول عقائد ، اخلاق ،اعمال کو درست کرو۔پھر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا مانگو تو اس کا اثر کامل طور پر ظاہر ہو گا۔اُمّت مرحومہ کے کہنے کی وجہ خاص طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اُمّت مرحومہ ایک ایسے زمانہ میں پیدا ہوئی ہے کہ جس کے لئے آفات پیدا ہونے لگی ہیں۔انسان کی حرکت گناہوں اور معاصی کی طرف ایسی ہے جیسے کہ ایک پتھر نیچے کو چلا جاتا ہے۔اُمّت مرحومہ اس لئے کہلاتی ہے کہ معاصی کا زور ہو گیا۔جیسے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الرّوم:۴۲) اور دوسری جگہ فرمایا يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الرّوم:۲۰) ان سب آیات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو نقشے دکھائے ہیں۔اول الذکر میں تو اس زمانہ کا جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے۔اس وقت بھی چونکہ دنیا کی حالت بہت ہی قابل رحم ہو گئی تھی۔اخلاق ، اعمال ، عقاید سب کا نام و نشان اٹھ گیا تھا اس لئے اس اُمّت کو مرحومہ کہا گیا۔کیونکہ اس وقت بڑے ہی رحم کی ضرورت تھی اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیآء :۱۰۸) قابل رحم اس شخص کو کہتے ہیں جسے سانپوں کی زمین پر چلنے کا حکم ہو۔یعنی خطرات عظیمہ اور آفات شدیدہ درپیش ہوں۔پس اُمّت مرحومہ اس لئے کہا کہ یہ قابل رحم ہے۔جب انسان کو مشکل