ملفوظات (جلد 1) — Page 109
کام دیا جاتا ہے تو وہ مشکل قابل رحم ہوتی ہے۔شرارتوں میں تجربہ کار ، بد اندیش خطا کاروں سے مقابلہ ٹھہرا اور پھر اُمّی جیسے حضرت نے فرمایا کہ ہم اُمّی ہیں اور حساب نہیں جانتے پس اُمّیوں کو شریر قوموں کا مقابلہ کرنا پڑا جو مکائد اور شرارتوں میں تجربہ کار تھے ، اس لئے اس کا نام اُمت مرحومہ رکھا۔مسلمانوں کو کس قدر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قابل رحم سمجھا۔پہلے واعظ انبیاء ایسے وقتوں میں آتے تھے کہ لوگ مکائد سے واقف نہ ہوتے تھے اور بعض اپنی ہی قوم میں آتے تھے لیکن اب لوگ مکائد اور دنیا کے علوم و فنون اور فلسفہ و سائنس میں پکے ماہر ہیں اور راستبازوں کو اس جہان کے ظاہری علوم اور مادی عقلوں سے اور ان کے پیچ در پیچ منصوبوں اور داؤں سے بہت کم مناسبت ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ اے عیسٰیؑ ! میں تیرے بعد ایک اُمت کو پیدا کرنے والا ہوں جو نہ عقل رکھے گی اور نہ علم یعنی اُمّی ہوگی۔آپ نے عرض کی یَا رَبِّ کَیْفَ یَعْرِفُوْنَکَ؟ اے اللہ! جبکہ وہ علم اور عقل سے بہرہ ور نہ ہوں گے تو تجھے کیونکر پہچانیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا علم اور عقل دوں گا۔اہل اسلام کو سماوی علوم سے مناسبت ہے اس سے بڑی بشارت ملتی ہے۔جیسے ہمارے مخالفوں کو ارضی علوم سے مناسبت ہے ایسے ہی اہل اسلام کو سماوی علوم سے۔ایک گنوار مسلمان کی سچی رؤیا اور خوابیں بڑے بڑے فلاسفروں ، بشپوں اور پنڈتوں کے خوابوں سے طاقت میں بڑھ کر ہیں۔ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ (الـجمعۃ:۵) پس مسلمانوں کو واجب ہے کہ اپنے اس محسن حقیقی کا شکر کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ (ابراہیم:۸) یعنی اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں اپنی دی ہوئی نعمت کو زیادہ کروں گا اور بصورت کفر عذاب میرا سخت ہے۔یاد رکھو کہ جب اُمت کو اُمت مرحومہ قرار دیا ہے اور علوم لدنیہ سے اسے سرفرازی بخشی ہے تو عملی طور پر شکر واجب ہے۔الغرض اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں تمام مسلمانوں کو لازم ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لحاظ رکھیں کیونکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر مقدم رکھا ہے۔پس پہلے عملی طور پر شکریہ کرنا چاہیے اور یہی مطلب اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں رکھا ہے یعنی دعا سے پہلے اسباب ظاہری کی