ملفوظات (جلد 1) — Page 107
کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے۔وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا کر دیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے۔وہ لوگ اس مقام پر ذرا خاص غور کریں جو کہتے ہیں کہ جب دعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے۔وہ نادان سوچیں کہ دعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیدا کر دیتا ہے اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا تقدم اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر جو کلمہ دعائیہ ہے اس امر کی خاص تشریح کر رہا ہے۔غرض عادۃ اللہ ہم یونہی دیکھ رہے ہیں کہ وہ خلق اسباب کر دیتا ہے۔دیکھو! پیاس کے بجھانے کے لئے پانی اور بھوک کے مٹانے کے لئے کھانا مہیا کرتا ہے مگر اسباب کے ذریعہ۔پس یہ سلسلہ اسباب یونہی چلتا ہے اور خلق اسباب ضرور ہوتا ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کے یہ دو نام ہی ہیں۔جیسا کہ مولوی محمد احسن صاحب نے ذکر کیا تھا کہ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا (النساء:۱۵۹) عزیز تو یہ ہے کہ ہر ایک کام کر دینا اور حکیم یہ کہ ہر ایک کام کسی حکمت سے موقع اور محل کے مناسب اور موزوں کر دینا۔دیکھو نباتات ، جمادات میں قسم قسم کے خواص رکھے ہیں۔تربد ہی کو دیکھو کہ وہ ایک دو تولہ تک دست لے آتی ہے ، ایسا ہی سقمونیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر تو قادر ہے کہ یونہی دست آجائے یا پیاس بدوں پانی ہی کے بجھ جائے مگر چونکہ عجائبات قدرت کا علم کرانا بھی ضروری تھا کیونکہ جس قدر واقفیت اور علم عجائبات قدرت کا وسیع ہوتا جاتا ہے اسی قدر انسان اللہ تعالیٰ کی صفات پر اطلاع پا کر قرب حاصل کرنے کے قابل ہوتا جاتا ہے۔طبابت ، ہیئت سے ہزارہا خواص معلوم ہوتے ہیں۔خواص الاشیاء کا ہی نام علم ہے علوم ہیں ہی کیا؟ صرف خواص الاشیاء ہی کا تو نام ہے۔سیارہ ، ستارہ ، نباتات کی تاثیریں اگر نہ رکھتا تو اللہ تعالیٰ کی صفت علیم پر ایمان لانا انسان کے لئے مشکل ہو جاتا۔یہ ایک یقینی امر ہے کہ ہمارے علم کی بنیاد خواص الاشیاء ہے۔اس سے یہ غرض ہے کہ ہم حکمت سیکھیں۔علوم کا نام حکمت بھی رکھا ہے۔چنانچہ فرمایا وَ مَنْ يُّـؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا (البقرۃ:۲۷۰) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کا مقصد پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کا مقصد یہی ہے کہ اس دعا کے وقت ان لوگوں کے اعمال ،