ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 105

رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیاء:۱۰۸) اور ایسا ہی فرمایا قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹) قرآن شریف کے دوسرے مقامات پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اُمّی فرمایا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے آپؐکا کوئی استاد نہ تھا مگر بایں ہمہ کہ آپ امی تھے حضور کے دین میں اُمِّیُّوْن اوسط درجہ کے آدمیوں کے علاوہ اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور عالموں کو بھی کر دیا جس سے قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا کے معنے نہایت ہی لطیف طور پر سمجھ میں آسکتے ہیں۔جَمِيْعًا کے دو معنے ہیں۔اول تمام بنی نوع انسان یا تمام مخلوق۔دوم تمام طبقہ کے آدمیوں کے لئے یعنی متوسط ،ادنیٰ اور اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور ہر ایک قسم کی عقل رکھنے والوں کے لئے۔غرض ہر عقل اور ہر مزاج کا آدمی مجھ سے تعلق کر سکتا ہے۔قرآن کریم کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اسی اُمّی نے کتاب اور حکمت ہی نہیں بتلائی بلکہ تزکیۂ نفس کی راہوں سے واقف کیا اور یہاں تک کہ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ (المجادلۃ:۲۳) تک پہنچا دیا۔دیکھو اور پُر غور نظر سے دیکھو! کہ قرآن شریف ہر طرز کے طالب کو اپنے مطلوب تک پہنچاتا اور ہر راستی اور صداقت کے پیاسے کو سیراب کرتا ہے لیکن خیال تو کرو کہ یہ حکمت اور معرفت کا دریا صداقت اور نور کا چشمہ کس پر نازل ہوا؟ اسی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو ایک طرف تو اُمّی کہلاتا ہے اور دوسری طرف وہ کمالات اور حقائق اس کے منہ سے نکل رہے ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر پائی نہیں جاتی۔یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ تا لوگ محسوس کریں کہ اللہ تعالیٰ کے تعلقات انسان کے ساتھ کہاں تک ہو سکتے ہیں؟ ہماری غرض اس بیان سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعلقات بہت نازک درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔مقربین سے الوہیت کا ایسا تعلق ہو جاتا ہے کہ مخلوق پرست انسان ان کو خدا سمجھ لیتے ہیں۔یہ بالکل درست اور صحیح ہے کہ مردان خدا، خدا نباشند لیکن ز خدا جدا نباشند # خدائے تعالیٰ ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ بغیر دعاؤں کے بھی ان کی امداد کرتا ہے۔مدعا یہ ہے کہ انسان کا اعلیٰ درجہ وہی نفس مطمئنہ ہے جس پر میں نے گفتگو شروع کی ہے۔اسی حالت میں اور تمام حالتوں