ملفوظات (جلد 1) — Page 106
سے ایسے لوازم ہو جاتے ہیں کہ عام تعلق الٰہی سے بڑھ کر خاص تعلق ہو جاتا ہے جو زمینی اور سطحی نہیں ہوتا بلکہ علوی اور سماوی تعلق ہوتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ اطمینان جس کو فلاح اور استقامت بھی کہتے ہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶) میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور اسی راہ کی دعا تعلیم کی گئی ہے اور یہ استقامت کی راہ ان لوگوں کی راہ ہے جو مُنْعَمْ عَلَیْـھِمْ ہیں۔اللہ تعالیٰ کے افضال و اکرام کے مورد ہیں۔مُنْعَمْ عَلَیْـھِمْ کی راہ کو خاص طور پر بیان کرنے سے یہ مطلب تھا کہ استقامت کی راہیں مختلف ہیں مگر وہ استقامت جو کامیابی اور فلاح کی راہوں کا نام ہے وہ انبیاء علیہم السلام کی راہیں ہیں۔اس میں ایک اور اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ میں دعا انسان کی زبان، قلب اور فعل سے ہوتی ہے اور جب انسان خدا سے نیک ہونے کی دعا کرے تو اسے شرم آتی ہے مگر یہی ایک دعا ہے جو ان مشکلات کو دور کر دیتی ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵) تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی امداد چاہتے ہیں۔دعا کرنے سے پہلے تمام قویٰ کا خرچ کرنا ضروری ہے اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو تقدم اس لئے ہے کہ انسان دعا کے وقت تمام قویٰ سے کام لے کر خدائے تعالیٰ کی طرف آتا ہے۔یہ ایک بے ادبی اور گستاخی ہے کہ قویٰ سے کام نہ لے کر اور قانون قدرت کے قواعد سے کام نہ لے کر آوے۔مثلاً کسان اگر تخمریزی کرنے سے پہلے ہی یہ دعا کرے کہ الٰہی! اس کھیت کو ہرا بھرا کر اور پھل پھول لا تو یہ شوخی اور ٹھٹھا ہے۔اسی کو خدا کا امتحان اور آزمائش کہتے ہیں جس سے منع کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خدا کو مت آزماؤ جیسا کہ مسیح علیہ السلام کے مائدہ مانگنے کے قصہ میں اس امر کو بوضاحت بیان کیا ہے۔اس پر غور کرو اور سوچو۔یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خدائے تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔اس لئے دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے اور یہی معنی اس دعا کے ہیں۔پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد اعمال میں نظر کرے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے