ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 104

ایک ہیبت میں آجاتے تھے۔متکلّم کے قدر کے موافق اس کے کلام میں ایک عظمت اور ہیبت ہوتی ہے۔دیکھو! دنیاوی حکام کے سامنے جاتے وقت بھی ایک تکلیف اور رعب ہوتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھ میں قلم ہے۔اسی طرح پر جو لوگ یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ مومن کے ساتھ خدا ہے وہ اس کی مخالفت چھوڑ دیتے ہیں اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو تنہا بیٹھ کر اس پر غور کرتے ہیں اور مقابلہ کر کے سوچتے ہیں۔یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ واقف راہ اور روشنی والے کے دوسرے تابع ہو جاویں اور یہی اس حدیث اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ کا منشا اور مفہوم ہے۔یعنی جب مومن کچھ بیان کرے تو خدائے تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہ جو کچھ بولتا ہے وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے بولتا ہے۔مدعا یہ ہے کہ مومن جب خدا سے محبت کرتا ہے تو الٰہی نور کا اس پر احاطہ ہو جاتا ہے اگرچہ وہ نور اس کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے اور اس کی بشریت کو ایک حد تک بھسم کر جاتا ہے جیسے آگ میں پڑا ہوا لوہا ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ عبودیت اور بشریت معدوم نہیں ہو جاتی۔یہی وہ راز ہے جو قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (الکہف:۱۱۱) کی تہ میں مرکوز ہے۔بشریت تو ہوتی ہے مگر وہ الوہیت کے رنگ کے نیچے متواری ہو جاتی ہے اور اس کے تمام قویٰ اور اعضاء للّٰہی راہوں میں خدا تعالیٰ کے ارادوں سے پُر ہو کر اس کی خواہشوں کی تصویر ہوجاتے ہیں۔اور یہی وہ امتیاز ہے جو اس کو کروڑہا مخلوق کی روحانی تربیت کا کفیل بنا دیتا ہے اور ربوبیت تامہ کا ایک مظہر قرار دیتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو کبھی بھی ایک نبی اس قدر مخلوقات کے لئے ہادی اور رہبر نہ ہو سکے۔رسول اُمّی صلی اللہ علیہ و سلم کا بے نظیر مقام چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے انسانوں کی روحانی تربیت کے لئے آئے تھے اس لئے یہ رنگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام میں بدرجہ کمال موجود تھا اور یہی وہ مرتبہ ہے جس پر قرآن کریم نے متعدد مقامات پر حضور کی نسبت شہادت دی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابل اور اسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ذکر فرمایا ہے مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا