ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 56

غرض یا د رکھنا چاہیے کہ نماز ہی وہ شَے ہے جس سے سب مشکلات آسان ہو جاتے ہیں اور سب بَلائیں دور ہوتی ہیں مگر نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہءِ احدیّت پر گر کر ایسا محو ہو جاتا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے اور پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے خدا کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ تو غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لیے وہ خدا سے مدد طلب کر تا ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کر لینا ہے۔ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے در پے رہے تو اس کا کچھ بگا ڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے۔حقیقی نماز یاد رکھو! یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔لیکن اکثر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے۱ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ( الماعون :۵،۶) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہو تے ہیں۔نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بد عملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے مگر جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حا صل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشو ع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا۔اس لئے چاہیے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات بدر میں ہے۔’’ایک حدیث ہے کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان کو لعنت کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک انسان عمل نہ کرے، دلی حضور نہ ہو تو گویا وہ عبادت سانپ کی خاصیت رکھتی ہے دیکھنے میں بہت خوبصورت اور خوشنما مگر بباطن دکھ دینے والی زہر سے پُر۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۱)