ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 55

پھر اس کے بعد فرمایا۔وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ ( المؤمنون :۶) یعنی جب وہ لوگ اپنی نمازوں میں خشوع خضوع کریں گے۔لغو سے اعراض کریں گے اور زکوٰۃ اد اکریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے سوراخوں کی حفا ظت کریں گے۔کیونکہ جب ایک شخص دین کو دنیا پر مقدّم رکھتا ہے اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ کسی اور کے مال کو ناجائز طریقہ سے کب حا صل کرنا چاہتا ہے اور کب چاہتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے حقوق کو دبالُوں۔۱ اور جب وہ مال جیسی عزیز چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تو پھر آنکھ، ناک، کان، زبان وغیرہ کو غیر محل پر کب استعمال کرنے لگا؟ کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک شخص اوّل درجہ کی نیکیوں کی نسبت اس قدر محتاط ہوتا ہے تو ادنیٰ درجہ کی نیکیاں خود بخود عمل میں آتی جاتی ہیں۔مثلاً جب خشوع خضوع سے دعا مانگنے لگا تو پھر اس کے سا تھ ہی لغو سے بھی اعراض کرنا پڑا اور جب لغو سے اعراض کیا تو پھر زکوٰۃ کے اد اکرنے میں دلیر ہونے لگا اور جب اپنے مال کی نسبت وہ اس قدر محتاط ہو گیا تو پھر غیروں کے حقوق چھیننے سے بدر جہءِ اَولیٰ بچنے لگا۔اس لئے اس کے آگے فرمایا وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ( المؤمنون : ۹) کیونکہ جو شخص دوسرے کے حق میں دست اندازی نہیں کرتا او ر جو حقوق اس کے ذمہ ہیں ان کو ادا کرتا ہے۔اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے عہدوں کا پکّا ہو اور دوسرے کی امانتوں میں خیانت کرنے سے بچنے والا ہو۔اس لئے بطور نتیجہ کے فرمایا کہ جب ان لوگوں میں یہ وصف پائے جاتے ہوں گے تو پھر لازمی بات ہے کہ وہ اپنے عہدوں کے بھی پکّے ہوں گے۔نماز کی اہمیت اور حقیقت پھر ان سب باتوں کے بعد فرمایا۔وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ ( المؤمنون : ۱۰) یعنی ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کر تے ہیں اور کبھی ناغہ نہیں کرتے اور انسان کی پیدائش کی اصل غرض بھی یہی ہے کہ وہ نماز کی حقیقت سیکھے۔جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذّٰریات : ۵۷ ) ۱ بدر سے۔’’ سب سے بڑا حق یہ ہے کہ انسان دوسرے کی بیوی پر بد نظر ہی نہ کرے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰)