ملفوظات (جلد 10) — Page 57
غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خا لی نہ ہو۔بہت سخت دن آنیوالے ہیں یاد رکھو! کہ بہت سخت دن آنے والے ہیں جن میں دنیا کو خطرناک شدائد اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ عنقریب سخت وبائیں اور طرح طرح کی آفات ارضی وسماوی ظاہر ہونے والی ہیں اور ایک شدید زلزلہ کی بھی خبر دے رکھی ہے جو کہ قیامت کا نمونہ ہوگا اور جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے بَغْتَةً فرمایا ہے یعنی وہ زلزلہ ناگہانی طور پر آجائے گا۔ایسے ہی اور بھی بہت سی ڈراؤنی خبریں خدا تعالیٰ نے دے رکھی ہیں۔اگر تمہیں ان باتوں کا پتہ ہو جائے جو میں دیکھ رہا ہوں تو سارا سارا دن اور ساری ساری رات خدا تعالیٰ کے آگے روتے رہو۔دیکھو! اسی ایک مہینہ میں ہی تین زلزلے آچکے ہیں اور یہ سب بطور پیش خیمہ کے ہیں۱ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں پہلے تو ٹڈیوں، جوؤں اور مینڈکوں وغیرہ کے عذاب ہی آتے رہے تھے اور مخالفوں نے اُن کو ایک قسم کا تماشا سمجھ رکھا تھا۲ اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان بدبختوں کو یہ خبر نہ تھی کہ ایک وہ معجزہ بھی ظاہر ہو گا۔جب کہ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ ( یونس:۹۱) بھی کہنا پڑے گا۔ابتدائی منذرات کو عبر ت کی نظر سے دیکھو سو اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھو! کہ اگر ابتدائی منذرات کو عبر ت کی نظر ۱ بدر سے۔’’اللہ تعالیٰ کی انذار کی باتیں نرمی سے شروع ہوتی ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۱) ۲ بدر سے۔’’پہلے نرم نرم عذاب آئے کہ حشرات الارض نکل آئے، خون پھیل گیا، قحط پڑ گیا۔بھلا فرعون قحط کو کیا جانتا تھا۔وہ تماشا سمجھتا ہوگا کیونکہ قحط کا اثر تو غریبوں پر پڑتا ہے مگر اس کو یہ خبر نہ تھی کہ ایک دن بطش شدید کا آنے والا ہے جب اس کے منہ سے بے اختیار نکلے گا اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۱)