ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 39

انسان دیکھ نہیں سکتا تو کیا خد ا بھی روشنیوں کا محتاج ہے ؟ غرض انسان کا دیکھنا اَور رنگ کا ہے اور خدا کا اَور رنگ کا ہے۔اس کی حقیقت خدا کے سپر د کرنی چاہیے۔۱ آریہ وغیرہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ کو غضب ناک کہا گیا ہے یہ ان کی صریح غلطی ہے اُن کو چاہیے تھا کہ قرآن مجید کی دوسری جگہوں پر بھی نظر کرتے وہاں تو صاف طور پر لکھا ہے۔عَذَابِيْۤ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ( الاعراف : ۱۵۷) خدا کی رحمت تو کل چیزوں کے شاملِ حال ہے۔مگر ان کو دقّت ہے تو یہ ہے کہ خدا کی رحمت کے تو وہ قائل ہی نہیں۔اُن کے مذہبی اصول کے بموجب اگر کوئی شخص بصد مشکل مکتی حا صل کر بھی لے تو آخر پھر وہاں سے بھی نکلنا ہی پڑے گا۔غرض خوب یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے کلام پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔جیسے خد اہر ایک عیب سے پاک ہے ویسے ہی ا س کا کلام بھی ہر ایک قسم کی غلطی سے پاک ہوتا ہے۔یہود کی شوخیاں اور یہ جو فرمایا ہے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ توا س سے یہ مراد ہے کہ یہود ایک قوم تھی جو توریت کو مانتی تھی۔انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت تکذیب کی تھی اور بڑی شوخی کے ساتھ اُن سے پیش آئے تھے۔یہاں تک کہ کئی بار ان کے قتل کا ارادہ بھی انہوں نے کیا تھا اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی فن کو کمال تک پہنچادیتا ہے تو پھر وہ بڑا نامی گرامی اور مشہور ہو جاتا ہے اور جب کبھی اس فن کا ذکر شروع ہوتا ہے تو پھر اسی کا نام ہی لیا جا تا ہے۔مثلاً دنیا میں ہزاروں پہلوان ہوئے ہیں اور اس وقت بھی موجو د ہیں۔مگر رستم کا ذکر خاص طور پر کیا جاتا ہے بلکہ اگر کسی کو پہلوانی کا خطاب بھی دیا جاتا ہے تو اُسے بھی رستم ہند وغیرہ کر کے پکارا جاتا ہے۔یہی حال یہود کا ہے۔کوئی نبی نہیں گذرا جس سے انہوں نے شوخی نہیں کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تو انہوں نے یہاں تک مخالفت کی کہ صلیب پر چڑھانے سے بھی دریغ ۱ بدر سے۔’’ خدا کا غضب خدا کی رحمت اس کے سمع بصر کی طرح الگ ہے۔ایمان لانا چاہیے اور حقیقت کو خدا کے سپرد کرنا مومن کی شان ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷)