ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 40

غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ والی دعا کی ضرورت ہاں اگر یہ سوال پیدا ہو کہ یہود نے تو انبیاء کے مقابل پر شوخیاں اور شرارتیں کی تھیں مگر اب تو سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ والی دعا کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں مسیح نا زل ہو گا اور مسلمان لوگ اس کی تکذیب کرکے یہود خصلت ہو جائیں گے اور طرح طرح کی بدکاریوں اور قسم قسم کی شوخیوں اور شرارتوں میں ترقی کر جاویں گے اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ والی دعا سکھائی ہے کہ اے مسلمانو! پنجگانہ نمازوں کی ہر ایک رکعت میں دعا مانگتے رہو کہ یا الٰہی! ہمیں ان کی راہ سے بچائے رکھیو جن پر تیرا غضب اسی دنیا میں نازل ہوا تھا اور جن کو تیرے مسیحؑ کی مخالفت کرنے کے سبب سے طرح طرح کی آفات ارضی وسماوی کا ذائقہ چکھنا پڑا تھا۔سو جاننا چاہیے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ اشارہ کرتی ہے۔اور وہی خدا کا سچا مسیح ہے جو اس وقت تمہارے درمیان بول رہا ہے۔مسیح موعود ؑ کی مخالفت اور تکفیر یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ پچیس۲۵ برس سے صبر کرتا رہا ہے ان لوگوں نے کوئی دقیقہ میری مخالفت کا اُٹھا نہیں رکھا۔ہر طرح سے شوخیاں کی گئیں۔طرح طرح کے الزام ہم پر لگائے گئے اور ان شوخیوں اور شرارتوں میں پوری سر گرمی سے کام لیا گیا۔ہر پہلو سے میرے فنا اور معدوم کرنے کے لئے زور لگائے گئے اور ہمارے لئے طرح طرح کے کفرنامے تیار کئے گئے اور نصاریٰ اور یہود سے بھی بدتر ہمیں سمجھا گیا۔حالانکہ ہم کلمہ طیبہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ پر دل وجان سے یقین رکھتے تھے قرآن شریف کو خدا تعالیٰ کی سچی اور کامل کتاب سمجھتے تھے اور سچے دل سے اُسے خاتم الکتب جانتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے دل سے خا تم النّبیّین سمجھتے تھے۔وہی نمازیں تھیں وہی قبلہ تھا۔اسی طرح سے ماہِ رمضان کے روزے رکھتے تھے۔حج اور زکوٰۃ میں بھی کوئی فرق نہ تھا پھر معلوم نہیں کہ وہ کون سے وجوہات تھے جن کے سبب سے ہمیں یہود اور نصاریٰ سے بھی بدتر ٹھہرایا گیا اور