ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 38

آئے گا جب کہ وہ فسق وفجور میں حد سے بڑھ جاویں گے اور جن کاموں سے ان قوموں پر خدا کا غضب بھڑکا تھا ویسے ہی کام مسلمان بھی کریں گے اور خدا کا غضب اُن پر نازل ہو گا۔تفسیروں اور احادیث والوں نے مغضوب سے یہود مراد لیے ہیں کیونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے انبیاء کے سا تھ بہت ہنسی ٹھٹھا کیا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خا ص طور پر دُکھ دیا تھا اور نہایت درجہ کی شوخیاں اور بے باکیاں انہوں نے دکھائی تھیں جن کا آخری نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسی دنیا میں ہی خدا کا غضب ان پر نازل ہوا تھا۔خدا تعالیٰ کے غضب کی حقیقت مگر اس جگہ خدا کے غضب سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ (معاذ اللہ ) خدا چڑ جاتا ہے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان بسبب اپنے گناہوں کے نہایت درجہ کے پاک اور قدوس خدا سے دُور ہو جاتا ہے یا مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ ایک شخص کسی ایسے حجرہ میں بیٹھا ہوا ہو جس کے چار دروازے ہوں اگر وہ ان دروازوں کو کھولے گا تو دھوپ اور آفتاب کی روشنی اندر آتی رہے گی اور اگر وہ سب دروازے بند کر دے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روشنی کا آنا بند ہو جائے گا۔غرض یہ بات سچی ہے کہ جب انسان کوئی فعل کرتا ہے تو سنّت اللہ اسی طرح سے ہے کہ اس فعل پر ایک فعل خدا کی طرف سے سر زد ہوتا ہے۔جیسے اس شخص نے اپنی بدقسمتی سے جب چاروں دروازے بند کر دیئے تھے تو اس پر خدا کا فعل یہ تھا کہ اس مکان میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو گیا۔غرض اس اندھیرا کرنے کا نام خدا کا غضب ہے۔یہ مت سمجھو کہ خدا کا غضب بھی اسی طرح کا ہوتا ہے کہ جس طرح سے کہ انسان کا غضب ہوتا ہے کیونکہ خدا خدا ہے اور انسان انسان ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جس طرح سے ایک انسان کام کرتا ہے خدا بھی اسی طرح سے ہی کرتا ہے مثلاً خدا سنتا ہے تو کیا اس کو سننے کے لئے انسان کی طرح ہوا کی ضرورت ہے اور کیا اس کا سننا بھی انسان کی طرح سے ہے کہ جس طرف ہوا کا رخ زیا دہ ہوا اُس طرف کی آواز کو زیادہ سن لیا۔یا مثلاً دیکھنا ہے کہ جب تک سورج چاند چراغ وغیرہ کی روشنی نہ ہو انسان دیکھ نہیں سکتا تو کیا خد ا بھی روشنیوں کا محتاج ہے ؟ غرض انسان کا دیکھنا اَور رنگ کا ہے اور خدا کا