ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 381

عرب صاحب عبدالمحی نے عرض کیا کہ میں پٹیالہ سے آیا ہوں۔عبدالحکیم نے آپ کے متعلق پیشگوئی کی ہے کہ آنے والی ۲۱؍ساون کو آپ کی وفات ہوجاوے گی۔لیکن پٹیالہ کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ وہ ایک جھوٹاآدمی ہے۔حضرت نے فرمایا۔كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ (بنی اسـرآءیل :۸۵) اللہ تعالیٰ ظاہر کردے گا کہ راست باز کون ہے؟ دعویٰ رسالت کی ماہیت فرمایا۔ہم نے ان معنوں میں کوئی دعویٰ رسالت نہیں کیا جیسا کہ ملّاں لوگ لوگوں کو بہکاتے ہیں اورجو کچھ ہمارادعویٰ ملہم اورمنذر ہونے کا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی متابعت کا ہے وہی ہمیشہ سے ہے آج کوئی نئی بات نہیں۔چوبیس سال سے یہ الہام ہے جَرِیُّ اللہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآءِ۔۱ ۲۰؍مئی ۱۹۰۸ء (بوقتِ عصر ) صلح کا فائدہ صلح سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفّار سے صلح کی۔اس کا نتیجہ یہ ہواکہ جب جنگ موقوف ہوئی تو مسلمانوں کے ساتھ کفّار کا میل جول ہوگیا اور انہیں اسلام کی صداقتوں پر نظر کرنے کا موقع مل گیا۔پھر ان میں سے کئی سعید روحیں اسلام کے لئے تیار ہوگئیں۔خدا کا ہاتھ سب سے بڑھ کر طاقتور ہے۔پنجاب کے مسلمانوں کے لئے انگریزوں کا وجود ایک نعمت ہے۔اگر انگریز نہ ہوں توجو کچھ نظارہ ہوتا اس کے تصور سے جی گھبراتا ہے۔مسلمانوں کو عیسائیوں سے باوجود اختلاف کے ایک قسم کا اتحاد ہے۔مگر ہندوتو بالکل الگ ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے انتقام سے کام نہیں لیا۔کوئی پوچھے کہ کتنے سو سؤروں ۱بدر جلد ۷نمبر ۱۹،۲۰ مورخہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷