ملفوظات (جلد 10) — Page 380
میں محوکرنا چاہتے ہیں ان کا مغلوب نہ ہو۔اورکوشش کرے کہ خدا کی مرضی کے موافق اس کی رفتار ہو۔یہاں تک کہ اس کا کوئی قول فعل خدا کی رضامندی کے بغیر سرزد ہی نہ ہو۔خدا قدوس اور پاک ہے وہ اپنی صفات کے مطابق ہی انسان کو بھی چلانا چاہتا ہے۔وہ رحیم ہے انسان سے بھی رحم چاہتا ہے۔وہ کریم ہے انسان سے بھی کرم چاہتا ہے۔خدا کی صفات خدا کے قانون قدرت میں ظاہر ہیں جسمانی طور سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا مدت ہائے دراز سے چلی آتی ہے۔ان کو اناج، پانی، لباس، روشنی وغیرہ تمام حوائج ضروریہ اورلازم انسانیہ ہمیشہ سے بہم پہنچاتا چلاآتا ہے اورہمیشہ ہی اس کے رحم اورکرم کی صفات اوراسماءِ حسنہ کے تقاضے ساتھ ساتھ مخلوق کی دستگیری کرتے چلے آئے ہیں۔پس غرض یہ ہے کہ خدا انسا ن کو اپنی صفات کے رنگ میں رنگین کرنا چاہتا ہے۔اس کے بعد پروفیسر اور لیڈی نے حضرت اقدسؑ کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ ہم مشکور ہیں کہ آپ نے گفتگو کی عزت بخشی اورہماری معلومات میں ایک مفید اضافہ فرمایا اور ہمارا وقت بہت اچھی طرح سے گذرا۔۱ ۱۹؍مئی ۱۹۰۸ء عبدالحکیم پٹیالوی کا ذکر عبدالحکیم کی کتاب کا ذکر تھا کہ بہت سے اعتراض کئے ہیں۔فرمایا۔ہم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے۔بحثیں ہوچکیں۔کتابیں مفصل لکھی جاچکی ہیں۔اب بحث میں پڑنا فضولیوں میں داخل ہے۔فرمایا۔ہر ایک شخص کی فطرت جدا ہو جاتی ہے۔ہمیں توسمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح کوئی شخص ایک آدمی کی بیس سال مریدی کرنے کے بعد اوراس کے ماتحت تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد پھر اس کے حق میں ایسی گند ی گالیاں بول سکتا ہے۔ہماری توسمجھ میں نہیں آسکتا۔مگر ہر ایک شخص کی فطرت جدا ہوتی ہے۔۱ الحکم جلد ۱۲نمبر ۳۵مورخہ ۳۰؍مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۴تا ۷