ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 379

شعر کیا ہی موزوں ہے کہ ؎ تو کار زمیں را نکو ساختی کہ با آسماں نیز پرداختی ان کے دقیق در دقیق مباحثات میں پڑکر ان کی تفصیلات کی جستجو میں وقت ضائع کرنا ٹھیک نہیں۔سوال۔میں ایک روزگرجامیں گیا تھا وہاں پادری صاحب نے لیکچر میں بیان کیا کہ’’انسان ایک بالکل ذلیل ہستی ہے اورگندہ کیڑا ہے۔یہ روز بروز نیچے ہی نیچے گرتا ہے اورترقی کے قابل ہی نہیں۔اسی واسطے اس کی نجات اورگناہ سے بچانے کے واسطے خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو کفارہ کیا ‘‘مگر میں جانتا ہوں کہ انسان نیکی میں ترقی کرسکتا ہے۔میرا یہ بچہ اس وقت اگر بے علمی کی وجہ سے کوئی حرکت ناجائز کرے توپھر ایک عرصہ بعد جب اسے عقل آوے گی اوراس کا علم ترقی کرے گا تویہ خود بخود سمجھ لے گا کہ یہ کام بُراہے اس سے پرہیز کرکے اچھے کام کرے گا۔‘‘ حضور کا اس میں کیا اعتقاد ہے ؟ جواب۔فرمایا۔انسان نیک ہے۔نیکی کرسکتا ہے اورترقی کرنے کے قویٰ اس کو دیئے گئے ہیں۔نیکی میں ترقی کرکے انسان نجات پاسکتا ہے۔سوال۔یہ لوگ کہتے ہیںکہ انسان لاکھ نیکی کرے مگر وہ برباد ہے بجز اس کے کہ کفّارہ مسیحؑ پرایمان لاوے۔آپ اس میں کیا فرماتے ہیں؟ جواب۔انسان کو عمل اور کوشش کی ضرورت ہے۔کفّارہ کی کوئی ضرورت نہیں۔جیسا جسمانی نظام ہے ویسا ہی روحانی نظام ہے۔نظام جسمانی میں ایک کاشتکار کی مثال ہی کو لے لو۔وہ کس محنت سے قلبہ رانی کرتا ہے اوربیج بوتا اور پانی دینے وغیرہ کی محنت برداشت کرتا ہے۔کیا اسے کسی کفّارہ کی ضرورت ہے؟ نہیں بلکہ اسے محنت اورعمل کی ضرورت ہے۔اس بات کو ہم مانتے ہی نہیں کہ بجز کفّارہ کے کوئی راہِ نجات ہی نہیں۔کفّارہ تو بلکہ انسانی ترقیات کی راہ میں ایک روک اورپتھر ہے۔پاکیزگی سے یہ مراد ہے کہ انسان کو جو اس کے جذباتِ نفسانیہ خدا سے روگرداں کرکے اپنی خواہشات