ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 378

اٹھاتے ہیں۔اب اگر یہ ثابت ہوجاوے کہ عقل کو مشتری سے تعلق ہے تو اس کے ماننے کے واسطے بھی ہم تیار ہیں۔اتنا سن کر پروفیسر موصوف نے عرض کیا کہ میں تو خیال کرتا تھا کہ سائنس اورمذہب میں بڑاتضاد ہے جیسا کہ عام طورسے علماء میں مانا گیا ہے مگر آپ نے تواس تضاد کو بالکل اٹھا دیا ہے۔فرمایا۔یہی تو ہمارا کام ہے اور یہی توہم ثابت کررہے ہیں کہ سائنس اورمذہب میں بالکل اختلاف نہیں بلکہ مذہب بالکل سائنس کے مطابق ہے اور سائنس خواہ کتنی ہی عروج پکڑ جاوے مگر قرآن کی تعلیم اور اصول اسلام کو ہرگز ہرگز نہیں جھٹلاسکے گی۔سوال۔مکھیوں یا ادنیٰ قسم کے جانوروں میں جو چیز پائی جاتی ہے۔اس کو کس نام سے تعبیر کیا جاوے گا؟ جواب۔روح تین قسم کی ہوتی ہے۔روح نباتی۔روح حیوانی۔روح انسانی۔ان تینوں کو ہم برابر نہیں مانتے۔ان میں سے حقیقی زندگی کی وارث اورجامع کمالات صرف انسانی روح ہے۔باقی حیوانی اور نباتی روح میں بھی ایک قسم کی زندگی ہے۔مگر وہ انسانی روح کی برابری نہیں کرسکتی۔نہ ویسے مدارج حاصل کرسکتی ہے۔نہ کمالات میں انسانی روح کی برابر ی کرسکتی ہے۔کچھ تشابہ ہوتو اس باریک بحث میں ہم پڑنا مناسب نہیں سمجھتے۔ہوسکتا ہے کہ بعض خاص خاص صفات میں یہ روحیں انسانی روح سے مشابہت رکھتی ہوں۔مگر جس طرح انسا ن میں اوران میں ظاہری اختلاف اورفرق ہے اسی طرح اختلاف روحانی بھی پایا جاتا ہے۔بلکہ یہاں تک بھی مانا گیا ہے کہ بعض نباتات میں بھی ایک قسم کا شعور پایا جاتا ہے۔ایک بانس کا درخت گھر کی چھت کے نیچے لگایا جاوے مگر جب بڑھتے بڑھتے وہ چھت سے قریب ایک بالشت کے رہ جاوے گا تو وہ اپنا رخ بدل لے گا اوردوسری طرف کو بڑھنا شروع کردے گا۔ایک اور قسم کی نباتی بوٹی ہے جس کو پنجاب میں چھوئی موئی کہتے ہیں۔وہ انسان کا ہاتھ لگتے ہی سمٹ کر اکٹھی ہو جاتی ہے۔یہ باتیں پرانی اچھی اچھی طبیعات کی کتابوں میں لکھی ہیں اور نیز تجربہ سے بھی ثابت ہیںمگر ان کے پیچھے بہت زیادہ نہ پڑنا چاہیے۔وہ