ملفوظات (جلد 10) — Page 290
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوتا ہے۔اب اورکون ہے جو اپنی مرضی سے کسی کو ہدایت پر قائم کرسکے۔نصیحت کرنا اوربات پہنچانا ہمارا کام ہے یوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے۔بعض اوقات جماعت کا اخلاص، محبت اورجو شِ ایمان دیکھ کر خو دہمیں تعجب اورحیرت آتی ہے اوریہاں تک کہ دشمن بھی تعجب میں ہیں۔ہزارہا انسان ہیں جنہوں نے محبت اوراخلاص میں توبڑی ترقی کی ہے مگر بعض اوقات پرانی عادات یا بشریت کی کمزوری کی وجہ سے دنیا کے امور میں ایسا وافر حصہ لیتے ہیں کہ پھر دین کی طرف سے غفلت ہوجاتی ہے۔ہمارا مطلب یہ ہے کہ بالکل ایسے پاک اور بے لوث ہوجاویں کہ دین کے سامنے امورِ دنیوی کی حقیقت نہ سمجھیں اورقسماقسم کی غفلتیں جو خدا سے دوری اور مہجوری کا باعث ہوتی ہیں وہ دور ہو جاویں۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہو اس وقت تک حالت خطرناک ہے اورقابل اطمینان نہیں۔کیونکہ جب تک ان باتوں کا ذرہ بھی وجود موجود ہے تواندیشہ ہے اورایک دبدہ لگی رہتی ہے کہ کسی وقت یہ باتیں زورپکڑ جاویں اورباعث حبط اعمال ہوجاویں۔جب تک ایک قسم کی مناسبت پیدا نہیں ہوتی تب تک حالت قابل اطمینان نہیں ہوتی۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد یادرکھو موت کا کوئی وقت نہیں۔آئے دن طاعون ہیضہ، زلازل، وبائیں، قحط اور اَورطرح کے امراض انسان پر حملہ کررہے ہیں اور اگر یہ بھی نہ ہوں تب بھی بعض اوقات خدا تعالیٰ کی ناگہانی گرفت اس طور سے انسان کو آ دباتی ہے کہ پھر کچھ بن نہیں پڑتا۔پس ضروری ہے کہ جو اقرار کیا جاتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اس اقرار کا ہر وقت مطالعہ کرتے رہو اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کا زندہ نمونہ پیش کرو۔عمر کا اعتبار نہیں۔دیکھو! ہر سال میں کئی دوست ہم سے جد ا ہوجاتے ہیں اور کئی دشمن بھی چل بستے ہیں۔خدا نے بعض خوفناک خبریں دی ہیں اور وہ اپنی بات میں سچا ہے۔ان سے اوربھی خوف آتا ہے وہ بہت ہی خطرناک ہیں۔رنگا رنگ کے خوف احاطہ کئے ہوئے ہیں۔