ملفوظات (جلد 10) — Page 291
طاعون نام ہے مری کا۔لغت میں ہے الطاعون ـ:الموت۔کسی کو کیا معلوم کہ خدا کا کیسا غضب بھڑکنے والا ہے۔خدامحفوظ رکھے ممکن ہے کہ ایسا شدید ہوکہ جس کی برداشت ہی نہ ہو۔قاعدہ کی بات ہے۔جیسا کہ ہم نے کل بھی بیان کیاتھا کہ جب کوئی عذاب اور قہر الٰہی دور ہوجاتا ہے ہیضہ ہویا طاعون وبا ہو یا قحط تولوگ مطمئن ہوجاتے ہیں چہروں پر خوشی کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں اورجان لیتے ہیں کہ وقت جاتا رہا۔پھر اس طرح سے دل سخت ہوجاتے ہیں۔مگر تمہار اکام یہ ہونا چاہیے کہ خدا کے آئندہ وعدوں کو یاد کرکے ترساں ولرزاں رہو اور قبل از وقت سنبھل جائو۔نت نئی توبہ کرو۔جو توبہ کرتا ہے وہ نیکی کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو توبہ نہیں کرتا وہ گناہ کی طرف جاتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرتا ہے توبہ نہ کرنے والا گناہ کی طرف جھکتا ہے اورگناہ آہستہ آہستہ کفر تک پہنچادیتا ہے۔تمہاراکام یہ ہے کہ کوئی مابہ الامتیاز بھی تو پیدا کرو۔تم میں اور تمہارے غیروں میں اگر کوئی فرق پایا جاوے گا تو جب ہی خدا بھی نصرت کرے گا۔ورنہ بنی اسرائیل کی طرف دیکھ لوکہ جب ان میں اوران کے غیر میں فرق نہ پایا گیا توباوجودیکہ حضرت موسٰی ان میں موجود تھے کافروں سے کیسی ذلّت کی ہزیمت دلائی۔ان کے مقابل میں ایک کافر کی تائید کی اوران کو سزادی۔نبی موجود، کتاب موجود، احکام موجود، بایں انہو ں نے خلاف کیا۔آخر کافروں سے بھی شکست کھائی۔کافر تواحکام الٰہی سے بے خبر ہوتے ہیں۔وہ ایسے مؤاخذہ کے قابل نہیں ہوتے جیسے کوئی مان کر، جان پہچان کر خلاف ورزی احکام کرنے والا۔تقویٰ کی اہمیت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ (النّحل :۱۲۹) تقویٰ، طہارت اورپاکیزگی اختیار کرنے والے خدا کی حمایت میں ہوتے ہیں اوروہ ہروقت نافرمانی کرنے سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔آجکل دنیا کا اصول منافقانہ زندگی بسر کرنا ہوگیا ہے۔اوّل اوّل انسان انسان سے نفاق کرتا ہے اور منافقانہ رنگ میں ہاں میں ہاں ملاتا ہے حالانکہ دلوں میں کدورت اوررنج وبغض بھرا ہوتا ہے۔پھر یہ عادت ترقی کرتے کرتے ایسی بڑھتی ہے کہ خدا سے بھی منافقانہ تعلق کرنا چاہتا ہے اور خدا کو