ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 289

خدا کے لئے کہنا تھا وہ کہہ چکا۔تم کو چاہیے کہ اپنے دین کی حفاظت کرو۔۱ ۴ ؍مئی ۱۹۰۸ء (بعد نماز عصر۔بمقام لاہور) جماعت کو نصیحت فرمایا۔ملاقات سے غرض یہی ہوتی ہے کہ اَمرِ دین کے متعلق کچھ سوچا جاوے میں بار بار اور کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ظاہر نام میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں۔تم بھی مسلمان ہو۔وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔تم کلمہ گو ہو وہ بھی کلمہ گو ہیں۔تم بھی اتباع قرآن کا دعویٰ کرتے ہو۔وہ بھی اتباع قرآن ہی کے مدعی ہیں۔غرض دعووں میں تو تم اور وہ دونوں برابر ہو مگر اللہ صرف دعووں سے خوش نہیں ہوتا جب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعوے کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو۔اس واسطے اکثر اوقات مجھے اس غم سے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ظاہری طور سے جماعت (کی) تعداد میں تو بہت ترقی ہو رہی ہے کیا خطوط کے ذریعہ سے اور کیا خود حاضر ہو کر دونوں طرح سے سلسلہ بیعت میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے۔آج کی ڈاک میںبھی ایک لمبی فہرست بیعت کنندگان کی آئی ہے، لیکن بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہیے اور اس پر کاربند ہونا چاہیے۔اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کرکے دکھاوے اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ بیعت پھر اس واسطے اور بھی باعث عذاب ہو گی کیونکہ معاہدہ کرکے جان بوجھ اور سوچ سمجھ کر نافرمانی کرنا سخت خطرناک ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ ان باتوں کا کسی دل میں پہنچا دینا میرا کام نہیں اور نہ ہی میرے پاس کوئی ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ میں اپنی بات کسی کے دل میں بٹھا دوں۔مگر یہ معاملہ مجھ سے ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء اسی راہ پر آئے ہیں۔اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ (القصص:۵۷) یہ ارشاد ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۸ مورخہ ۲۲؍اگست ۱۹۰۸ء صفحہ ۱،۲ (منقول از تشحیذ الاذہان)