ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 201

ہوا کہ جن کی وجہ سے یقیناً کہا جاسکتا ہے کہ یہ مشکلات ایسی ہیں جن سے حج کے بالکل بند ہوجانے کا اندیشہ ہے خصوصاً اہل ہند کے واسطے۔انہوں نے بیان کیا کہ ٹرکی حدود میں کورنٹائن کی ناقابلِ برداشت سختیاں وہاں کے ڈاکٹروں اورحاکموں کا سخت درجہ کا حریص اورطامع ہونا اور اپنے فائدے کے لئے ہزاروں جانوں کی ذرہ بھر پرواہ نہ کرنا، لوگوں کا سامان خوراک پوشاک وغیرہ بھپارہ میں ضائع کردینا یا نقدی کا ضائع جانا۔اورپھر جو چیز ایک مصری حاجی دس روپے میں حاصل کرسکتا ہے وہ ہندیوں کو تیس روپے تک بھی بمشکل دینا۔رستوں میں باوجودیکہ سلطان المعظم نے ہر دومیل پر کنواں تیارکروا رکھا ہے عمال اورکارکنوں کا بغیر دوچار آنے لئے کے پانی کا گلاس تک نہ دینا اور پھر راستہ میں باوجود چوکی پہروں کے انتظام کے جو کہ سلطان المعظم کی طرف سے کیا گیا ہے پر لے درجے کی بدامنی کا ہونا یہاں تک کہ انسان اگر راستے سے دوچارگز بھی اِدھر اُدھر ہو جاوے تو پھر وہ زندہ نہیں بچ سکتا اور پھر ہندیوں سے خصوصاً سخت برتائو ہونا، بات بات پرپٹ جانا اور کوئی داد فریا د نہیں۔بات بات پر کذّاب، بطّال اور الفاظ حقارت سے مخاطب کیا جانا وغیرہ وغیرہ ایسے سامان ہیں کہ بہت ہی مصیبت کا سامنا نظر آتا ہے۔یہ سارا ماجرا سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم آپ کو ایک نصیحت کرتے ہیں۔ایسا ہوکہ ان تمام امور ِتکالیف سے آ پ کی قوتِ ایمانی میں کسی قسم کا فرق اورتزلزل نہ آوے۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلا ہے۔اس سے پاک عقائد پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ان باتوں سے اس متبرک مقام کی عظمت دلوں میں کم نہ ہونی چاہیے کیونکہ اس سے بدتر ایک زمانہ گذرا ہے کہ یہی مقدس مقام نجس مشرکوں کے قبضہ میں تھا اور انہوںنے اسے بُت خانہ بنا رکھا تھا۔بلکہ یہ تمام مشکلات اور مصائب خوش آئند زمانے اورزندگی کے درجات ہیں۔دیکھو! آنحضرتؐکے مبعوث ہونے سے پہلے بھی زمانہ کی حالت کیسی خطر ناک ہوگئی تھی اور کفروشرک اورفساد اور ناپاکی حد سے بڑھ گئے تھے تو اس ظلمت کے بعد بھی ایک نور دنیا میں ظاہر ہوا تھا۔اسی طرح اب بھی امید کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان مشکلات کے بعد کوئی بہتری کے سامان بھی پیدا کر دے گا اور خدا کوئی سامانِ اصلاح پیداکردے گا بلکہ اسی متبرک اور مقدس مقام پر ایک اوربھی ایسا ہی خطرناک اور