ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 202

نازک وقت گذر چکا تھا جس کی طرف آنحضرتؐکو اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی تھی۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ۔(الفیل :۲) غرض یہ اب تیسرا واقعہ ہے۔ا س کی طرف بھی اللہ تعالیٰ ضرور توجہ کرے گا اورخدا کا توجہ کرنا تو پھر قہری رنگ میں ہی ہوگا۔دین العجائزوالوں سے مواخذہ میں نرمی ہوگی ایک شخص کابلی سید عبدالمجید خان نامی چند روز سے قادیان میں آیا ہوا تھا۔اس نے عرض کی کہ حضور میرا ارادہ ہے کہ حضور کے قدموں میں رہوں اور تحصیلِ علوم دینی کروں۔فرمایا کہ اب تمہاری عمر اس قابل نہیں کہ تحصیلِ علوم کی طرف توجہ کرو۔تمہاراکام یہ ہے کہ محنت کرو اور کمائو اور خدا کی راہ میں تقویٰ اختیار کرو۔تمام علوم صحیحہ کی انتہائی غرض عمل ہوتی ہے۔اگر انسان پڑھ کر عمل نہیں کرتا تو وہ سخت گناہ کرتا ہے اور پکڑ بھی سخت ہوگی۔مولوی ہو اور پھر گناہ کرے یہ خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کی علامت ہے اور جو لوگ دین العجائز رکھتے ہیں اورمعمولی مسلمان ہیں مواخذہ میں بھی ان سے نرمی کی جاوے گی۔پس کوشش کرو۔عملی حالت میں ترقی کرو۔۱ ۲۱؍ اپریل ۱۹۰۸ء (قبل از ظہر ) ایمان قوی ہوتو نشہ چھوڑ اجاسکتا ہے تمباکو، افیون اورشراب وغیرہ کے متعلق ذکر تھا کہ ان کی عادت جن لوگوں کو ہوجاتی ہے پھر ان کا چھوٹنا مشکل ہوجاتا ہے اور بالخصوص شراب تو ایک ایسی چیز ہے کہ چھوڑ دینے کے بعد بھی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا عام دوری امراض کی طرح بعض اوقات دورہ ہوجاتا ہے اوروہ ایسا ۱الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ مورخہ۲۲؍ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱