ملفوظات (جلد 10) — Page 200
جب انسان کسی اعلیٰ مرتبہ کو حاصل کرلیتا ہے تو پھر وہ مغرور ہوجاتا ہے حالانکہ وہ اس عرصہ میں بہت کچھ نیک کام کرسکتا ہے اوربنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ (ابراھیم :۸) اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اوربھی زیادہ کرتا ہوں اوراگر تم کفر کروتو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔یعنی انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اورانسانوں کی بہتر ی کا خیال رکھے اوراگر کوئی ایسا نہ کرے اورالٹا ظلم شروع کردے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اورعذاب کرتا ہے۔آجکل نواب اور راجہ بالکل بھولے ہیں اور پھر اپنے عیش وآرام میں پڑے ہوئے ہیں۔دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ ایسے کاموں میں مخلوق کی بھلائی کا خیال رکھیں اور ان باتوں کو بھولیں نہیں جن سے اہلِ ملک کا فائدہ ہو اورایسا نہ ہو کہ بڑا عہدہ پاکر انسان خدا کو بھول جائے اور اس کا دماغ آسمان پرچڑھ جائے بلکہ چاہیے کہ نرمی اور پیار سے کام کیا جائے اورچاہیے کہ جو شخص کسی ذمہ داری کے عہد ہ پر مقرر ہوتو وہ لوگوں سے خواہ امیر ہوں یا غریب نرمی اور اخلاق سے پیش آئے کیونکہ اس میں نہ صرف ان لوگوں کی بہتری ہے بلکہ خود اس کی بھی بہتری ہے۔۱ ۲۰ ؍اپریل ۱۹۰۸ء (قبل ظہر ) خانہ کعبہ کی عظمت دلوں میں کم نہیں ہونی چاہیے شیخ فضل کریم صاحب جنہوں نے اسی سال حج کعبۃ اللہ کا شرف حاصل کیا ہے چند روز سے دارالامان میں تشریف رکھتے ہیں۔قبل ظہر حضرت اقدسؑ سے ملاقات ہوئی اورانہوں نے اس سال کی ناقابل برداشت تکالیف کا جو حجاج کو برداشت کرنی پڑیں ساراحال بیان کیا۔انہوں نے بیان کیا کہ انگلش حدود سے نکل کر ٹرکش حدود میں داخل ہوتے ہی ایسی مشکلات کا سامنا ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۱۶ مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ءصفحہ ۱۴