ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 193

اورصدق خلوص کا اظہار کردیا ہے تووہ لوگ معذور ہیں اوربعض وہ لوگ جو اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ مکفّرین میں داخل نہیں ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کاایک اشتہار دے دیں کہ وہ ہمارے مکفّرین میں سے نہیں ہیں اورجولوگ ہم کو کافر وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں ان سے اپنے آپ کو یوں الگ کردیں بلکہ یہ بھی لکھ دیں کہ جو لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں وہ آنحضرتؐکی حدیث کے مطابق ایک مسلمان کو کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہیں۔لیکن چپکے چپکے کبھی ہم میں آئے توہمارے بن بیٹھے اوران میں گئے توان کے ہوگئے۔یہ ایمانداروں کی روش نہیں ہے۔ہم کوئی غیب کا علم تو رکھتے نہیں کہ کسی کے دل کی حالت سے ہمیں آگاہی ہوجاوے۔پس یہ ایک راہ ہے کہ جس سے یہ لوگ اگر ان کے دلوں میں کوئی نفاق کا مرض نہیں ہے توہمارے مکفّرین میں سے الگ ہوکر الگ ایک جماعت بن سکتے ہیں اوراگر فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا (البقرۃ:۱۱) والا معاملہ ہے اوران کے دلوں میں واقعی نفاق کی آگ ہے تواس طرح سے ان کی بیماری اوربھی زیادہ ہوجاوے گی اورظاہر ہوجاوے گی۔اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات حُبِّ دنیا کا غلبہ بھی سلبِ ایمان کا باعث ہو جایا کرتا ہے لہٰذا دنیوی امور میں بہت انہماک اوردنیوی امور کو اتنی اہمیت دے دینا کہ گویا دین، ایمان اورآخرت کی پروا ہی نہ رہے۔یہ بھی خطرناک زہریلا مرض ہے۔یہ تووہ زمانہ ہے جس کے متعلق رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جائو، درختوں کے تنوں سے لگ جائو اور جس طرح سے بن پڑے زمانہ کے فتن سے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش کرو۔پس اگر بحالت مجبوری کوئی احمدی اکیلا ہی ہوتو اسے تنہا ہی نماز گذارلینی چاہیے اورکوشش اوردعاکرنی چاہیے کہ خدا اسے جماعت بنادے۔بعض دفعہ سختی کرنا ضروری ہوتا ہے اصل میں مومن کو بھی تبلیغ دین میں حفظِ مراتب کا خیال رکھنا چاہیے۔جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں سختی