ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 194

اوردرشتی نہ کرے اورجہاں بجز سختی کرنے کے کام ہوتا نظر نہ آوے وہاں نرمی کرنا بھی گناہ ہے۔۱ ع گرحفظِ مراتب نہ کنی زندیقی دیکھو! فرعون بظاہر کیسا سخت کافر انسان تھا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسٰی کو یہی ہدایت ہوئی کہ قُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا (طٰہٰ: ۴۵) رسول اکرمؐ کے واسطے بھی قرآن شریف میں اسی قسم کا حکم ہے وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (الانفال: ۶۲) مومنوں اور مسلمانوں کے واسطے نرمی اور شفقت کا حکم ہے۔رسول اللہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی ایسی ہی حالت بیان کی گئی جہاں فرمایا ہے کہمُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ(الفتح:۳۰) چنانچہ ایک دوسرے مقام پر آنحضرتؐکو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ منافق اور کفّار کا سختی سے مقابلہ کرو چنانچہ فرماتا ہے کہ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التوبۃ:۷۳) غرض ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود خدا تعالیٰ نے بھی حفظِ مراتب کا لحاظ رکھا ہے۔مومنین اور ایمانداروں کے واسطے کیسی نرمی کا حکم ہے اور کفار میں سے بعض میں مادہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ان کو سختی کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح سے بعض بیماریوں یا زخموں میں ایک حکیم حاذق کو چیرا پھاڑی اور عملِ جرّاحی سے کام لینا پڑتا ہے۔حضرت ابنِ عربی لکھتے ہیں کہ فرعون کے لئے کیوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی کو نرمی کا سلوک کرنے کی ہدایت کی۔اس میں بھید یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آخر اسے ایمان نصیب ہو جاوے گا۔چنانچہ اٰمَنْتُ کا لفظ اسی کے منہ سے نکلا۔بلکہ وہ تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ قرآن شریف سے اس کی نجات بھی ثابت ہے۔قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ فرعون جہنم میں داخل ہوگا۔صرف یہی لکھا ہے کہ يَقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ( ھود:۹۹) بدر سے۔’’ہر معترض سے جو باوجود سمجھانے کے پھر بھی اعتراض کرتا چلا جائے نرمی کا برتائو ٹھیک نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۱۶ مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)