ملفوظات (جلد 10) — Page 136
نقص کوئی ثابت کر سکا اور نہ ہی آپ کے معجزات کی قدر و عظمت میں فرق آیا بلکہ روز افزوں ان کی عظمت اور شوکت بڑھتی ہی جاتی ہے اور جوں جوں نئے نئے علوم نکلتے ہیں، سائنس اور فلاسفہ ترقی کرتا جاتا ہے تو ں توں آپ کی تعلیم کی عظمت اور آپ کے معجزات کی شوکت زیا دہ ہوتی ہے۔دیکھو ایک اور بڑا بھاری مابہ الامتیاز اللہ تعالیٰ نے یہ قائم کیا ہے لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ(الـحاقۃ: ۴۵تا۴۷) یعنی اگر کوئی شخص تقوّل علَی اللہ کرے تو وہ ہلاک کر دیا جاوے گا۔خبر نہیں کیوں اس میں آنحضرتؐہی کی خصوصیت رکھی جاتی ہے۔کیا وجہ کہ رسول اللہؐ اگر تقوّل علَی اللہ کریں توا ُن کو تو گرفت کی جاوے اور اگر کوئی اور کرے تو اس کی پروانہ کی جاوے۔نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اُٹھ جاتی ہے۔صادق اور مفتری میں مابہ الامتیاز ہی نہیں رہتا۔اِنَّهٗ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ(طٰہٰ: ۷۵) فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ(الزلزال:۸،۹)اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(الانعام : ۲۲)ان آیات سے صاف طور سے عموم ظاہر ہو رہا ہے۔کوئی خصوصیت نہیں۔نہ معلوم تو پھر رسول اللہؐ اگر افترا علی اللہ کریں تو خدا بُرا مناتا ہے مگر اگر کوئی اور یہی جرم کر دے تو خیر چنداں ہرج کی بات نہیں۔معاذ اللہ! براہین کے زمانہ کو دیکھو جب کہ اس نے خود ریویو بھی لکھا ہے۔اس سے قسماً پوچھ لو کہ اس وقت میں اکیلا تھا یا نہیں اور اب اس وقت چار لاکھ سے بھی زیادہ آدمی ہمارے ساتھ ہیں۔بھلا کبھی مفتری کی بھی اللہ تعالیٰ ایسی نصرت کرتا ہے؟ پس عام لوگوں کے خوابوں اور انبیاء کی وحی میں اللہ تعالیٰ نے خود مابہ الامتیاز مقر ر کر دئیے ہیں۔جنسیت کے لحاظ سے تو کم وبیش ہر طبقہ کے لو گ شامل ہیں مگر بلحاظ اپنی کیفیت اور کمیت مقدار ونصرت انبیاء ہی کی وحی ممتاز اور قابل اعتبار ہو تی ہے۔پھر ہمیں تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ تشریعی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔اب اسی شریعت کی خدمت بذریعہ الہامات، مکالمات، مخاطبات اور بذریعہ پیشگوئیوں