ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 136

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۶ جلد دہم نقص کوئی ثابت کر سکا اور نہ ہی آپ کے معجزات کی قدر و عظمت میں فرق آیا بلکہ روز افزوں ان کی عظمت اور شوکت بڑھتی ہی جاتی ہے اور جوں جوں نئے نئے علوم نکلتے ہیں، سائنس اور فلاسفہ ترقی کرتا جاتا ہے توں توں آپ کی تعلیم کی عظمت اور آپ کے معجزات کی شوکت زیادہ ہوتی ہے۔ دیکھو ایک اور بڑا بھاری ما بہ الامتیاز اللہ تعالیٰ نے یہ قائم کیا ہے لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (الحاقة : ۴۵ تا ۴۷) یعنی اگر کوئی شخص تقول علی اللہ کرے تو وہ ہلاک کر دیا جاوے گا۔ خبر نہیں کیوں اس میں آنحضرت ہی کی خصوصیت رکھی جاتی ہے۔ کیا وجہ کہ رسول اللہ اگر تقول علی اللہ کریں تو ان کو تو گرفت کی جاوے اور اگر کوئی اور کرے تو اس کی پروانہ کی جاوے۔ نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اُٹھ جاتی ہے۔ صادق اور مفتری میں ما بہ الامتیاز ہی نہیں رہتا ۔ اِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ (طه: ۷۵) فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَةً وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَة (الزلزال : ۹۰۸) إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ (الانعام : ۲۲) ان آیات سے صاف طور سے عموم ظاہر ہو رہا ہے۔ کوئی خصوصیت نہیں ۔ نہ معلوم تو پھر رسول اللہ ا گر افترا علی اللہ کریں تو خدا برا مناتا ہے مگر اگر کوئی اور یہی جرم کر دے تو خیر چنداں ہرج کی بات نہیں ۔ معاذ اللہ ! براہین کے زمانہ کو دیکھو جب کہ اس نے خودر یو یو بھی لکھا ہے۔ اس سے قسماً پوچھ لو کہ اس وقت میں اکیلا تھا یا نہیں اور اب اس وقت چار لاکھ سے بھی زیادہ آدمی ہمارے ساتھ ہیں۔ بھلا کبھی مفتری کی بھی اللہ تعالیٰ ایسی نصرت کرتا ہے؟ پس عام لوگوں کے خوابوں اور انبیاء کی وحی میں اللہ تعالیٰ نے خود ما بہ الامتیاز مقرر کر دیئے ہیں ۔ جنسیت کے لحاظ سے تو کم و بیش ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں مگر بلحاظ اپنی کیفیت اور کمیت مقدار و نصرت انبیاء ہی کی وحی ممتاز اور قابل اعتبار ہوتی ہے۔ - پھر ہمیں تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ تشریعی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئیوں پر ختم ہو گئی ۔ اب اسی شریعت کی خدمت بذریعہ الہامات، مکالمات ، مخاطبات اور بذریعہ پین