ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 135

ایک شخص نے ہمارے مقابلہ میں امر تسر سے اپنے ہاں لڑکا ہونے کی پیشگوئی کی تھی۔مگر خدا جانے کیا ہوا وہ موہوم حمل بھی حمل نہ رہا اور ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔غرض آپ کا خواب یا الہام بھی تو ابھی تصدیق طلب ہے مگر جن کے خوابوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان میں سے بعض مشرک اور دہریہ بھی ہیں اور بعض فاسق وفاجر اور چور و زانی۔ان کو بھی تو آپ کچھ جواب دیں کہ کیا آپ ان کو نبی یا ولی اللہ مان لیں گے؟ یہاں آنا ہو تو نفسانی غرض سے نہ آؤ بلکہ تحقیق حق کے لیے آؤ۔اسی تصفیہ کے واسطے آجاؤ کہ خواب کفّار فُجار کو بھی آجاتی ہیں اور انبیاء کو بھی۔جنسیت میں دونوں مشترک ہیں تو پھر کفّار اور انبیاء کی خوابوں اور الہامات میں مابہ الامتیاز کیا ہے ؟ ان میں کوئی معیار بھی خدا نے رکھا ہے یا کہ نہیں؟ یہ ایک دینی کام ہے اس کی تحقیق کے واسطے آ جاؤ۔ثواب بھی ہے۔یاد رکھو کہ قرآن شریف نے ان دونوں قسموں میں امتیازی معیار پیشگوئی کو رکھا ہے جو انسانی طاقتوں سے بالا تر اور خا رق عادت رنگ میں ـغیب پر مشتمل ہو۔معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کہ موسٰی کے سوٹے کی طرح فوراً دکھا دئیے جاتے ہیں۔دوسرے علمی رنگ کے معجزات اور غیب پر مشتمل پیشگوئیاں۔اوّل الذّکر معجزات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان سے دشمنوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں مگر دیرپا اور ہمیشہ کے واسطے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقتی ضرورت کے مناسبِ حال ہوتے۔پیچھے آنے والی قوموں کے واسطے وہ کوئی حجّت اور دلیل نہیں ہوتے کیونکہ ان میں تدبّر و تفّکر کا انسان کو موقع نہیں ملتا۔مگر مؤخر الذکر معجزات ایسے علمی رنگ میں ہوتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے واسطے اور دیر پا ہوتے ہیں۔انسان جو ں جوں ان میں غور وخوض کرتا ہے توں توں ان کی شوکت اور عظمت بھی بڑھتی جاتی ہے۔اور جوں جوں بُعد زمانی ہوتا جاتا ہےان کی ضیا اور شوکت میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ان کی عظمت میں فرق نہیں آتا۔چنانچہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اس قسم ثانی کے ہیں۔دیکھ لو! تیرہ سو برس گذر چکے ہیں زمانہ ترقی کے لحا ظ سے معراج پر پہنچ گیا ہے۔نئے نئے علوم اور طبیعات نکلے مگر نہ آنحضرتؐکی تعلیم کا کوئی