ملفوظات (جلد 10) — Page 6
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد دہم قادیان کی تاریخی حیثیت فرمایا کہ اس قادیان میں پانچ سوحافظ قرآن شریف کے رہتے تھے اس وقت اس جگہ کا نام اسلام پور تھا۔ اب یہاں کیا ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھی اس قدر تعداد حفاظ کی نہیں مل سکتی۔ اس جگہ کی اسلامی شوکت کو سکھوں نے خراب کر دیا تھا۔ یہاں بہت سے سکھ رہتے تھے جن میں سے بعض نے سید احمد صاحب کے ساتھ بھی لڑائیاں کی تھیں مگر رفتہ رفتہ وہ سب مر گئے اور اب دو چار باقی ہوں گے۔ فرمایا۔ جہاد کا مسئلہ بھی ہمارے مولویوں نے کچھ اُلٹا ہی سمجھا ہے۔ جہاد کی حقیقت قرآن شریف اور احادیث اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح سے کہیں ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ کوئی اس قسم کا جہاد اسلام میں جائز ہو یا کبھی کیا گیا ہو کہ کفار کو زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ تیرہ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کفار کے ہاتھوں سے دُکھ اُٹھایا ۔ جب کفار کی زیادتیاں حد سے بڑھ گئیں تب اجازت ہوئی کہ اُن لوگوں کو قتل کرو جو تم کو قتل کرتے ہیں اور بسبب مظلوم ہونے کے مسلمانوں کو بھی اجازت دی گئی کہ ہاتھ اُٹھا ئیں ۔ سارا خلاصہ جہاد کا یہی ہے اور جزیہ جو بہت ہی قلیل رقم کا ٹیکس ہے خود اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ کفار کو اپنے ماتحت امن کے ساتھ رکھنے کا اسلامیوں کو حکم تھا۔ اسی بات پر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے۔ و کو لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَاتٌ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ (الحج : ۴۱) اس آیت سے بھی ثابت ہوا ہے کہ مذہب کی خاطر جنگ کرنا اور دوسرے مذاہب کو تلوار کے ذریعہ سے منہدم کرنے کی کوشش کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالی تمام مذاہب کے نشانات کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اور جو سچا ہے اس کی خاص نصرت فرماتا ہے وہ خود بخودفروغ پکڑتا ہے اس کو کسی جہاد کی ضرورت نہیں ۔