ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 6

قادیان کی تاریخی حیثیت فرمایا کہ اس قادیان میں پانچ سو حافظ قرآن شریف کے رہتے تھے اس وقت اس جگہ کا نام اسلام پور تھا۔اب یہاں کیا ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھی اس قدر تعداد حفاظ کی نہیں مل سکتی۔اس جگہ کی اسلامی شوکت کو سکھوں نے خراب کر دیا تھا۔یہاں بہت سے سکھ رہتے تھے جن میں سے بعض نے سید احمد صاحب کے ساتھ بھی لڑائیاں کی تھیں مگر رفتہ رفتہ وہ سب مَر گئے اور اب دو چار باقی ہوں گے۔جہاد کی حقیقت فرمایا۔جہاد کا مسئلہ بھی ہمارے مولویوں نے کچھ اُلٹا ہی سمجھا ہے۔قرآن شریف اور احادیث اور آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح سے کہیں ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ کوئی اس قسم کا جہاد اسلام میں جا ئز ہو یا کبھی کیا گیا ہو کہ کفار کو زبردستی مسلمان بنایا جائے۔تیرہ سال تک آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے صحابہ ؓنے کفار کے ہاتھوں سے دُکھ اُٹھایا۔جب کفار کی زیادتیاں حد سے بڑھ گئیں تب اجازت ہوئی کہ اُن لوگوں کو قتل کرو جو تم کو قتل کرتے ہیں اور بسبب مظلوم ہونے کے مسلمانوں کو بھی اجازت دی گئی کہ ہاتھ اُٹھائیں۔سارا خلاصہ جہاد کا یہی ہے اور جز یہ جو بہت ہی قلیل رقم کا ٹیکس ہے خود اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ کفار کو اپنے ماتحت امن کے ساتھ رکھنے کا اسلامیوں کو حکم تھا۔اسی بات پر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے۔وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِيَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا١ؕ وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ(الـحج :۴۱) اس آیت سے بھی ثابت ہوا ہے کہ مذہب کی خا طر جنگ کرنا اور دوسرے مذاہب کو تلوار کے ذریعہ سے منہدم کرنے کی کوشش کرنا جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ تمام مذاہب کے نشانات کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔اور جو سچا ہے اس کی خاص نصرت فرماتا ہے وہ خود بخود فروغ پکڑتا ہے اس کو کسی جہاد کی ضرورت نہیں۔